بی ایچ یو میں ہنگامہ، پراکٹر کی گاڑی پرپتھراؤ، سیکورٹی کے سخت انتظامات

Nov 11, 2017 12:17 PM IST | Updated on: Nov 11, 2017 12:17 PM IST

وارانسی۔ کاشی ہندو یونیورسٹی ( بی ایچ یو) میں ایک ریسرچ طالب علم اور اس کے کلاس میٹ کے درمیان جھگڑے کے بعد گزشتہ شب مشتعل اسٹوڈنٹس نے یہاں توڑ پھوڑ کی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ’رويا ہاسٹل ‘ کے ریسرچ طالب علم سدھانشو کے ساتھ کچھ طلبا کی مارپیٹ کے بعد تنازعہ بڑھ گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی چیف پراکٹر پرو فیسروينا سنگھ موقع پر پہنچیں۔ اسی درمیان ان کی گاڑی کے ساتھ یونیورسٹی کی ایک بس پر پتھراؤ کیا گیا، جس سے دونوں گاڑیوں كو نقصان پہنچا، پتھراؤ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں تین طلبا کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ دوسری طرف، بی ایچ یو-آئی آئی ٹی کے طلبا کی جانب سےیونیورسٹی کیمپس میں کل منعقد ’ڈی جے نائٹ‘ کی حمایت اور مخالفت میں طلبا کے دو گروپوں نے الگ الگ ہنگامہ کیا۔پروگرام کے انعقاد کی مخالفت کر رہے طلبا نے بڑلا ہاسٹل کے قریب دھرنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام بی ایچ یو کے بانی مهامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کے اقدار اور یونیورسٹی کی ثقافت کے خلاف ہے، ایسے پروگرام کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔

بی ایچ یو میں ہنگامہ، پراکٹر کی گاڑی پرپتھراؤ، سیکورٹی کے سخت انتظامات

اگرچہ، یونیورسٹی کے اطلاعات و تعلقات عامہ افسر راجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ڈی جے پروگرام امتحان کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایاکہ سدھانشو کے ساتھ مارپیٹ اور اس کے بعد پتھراؤ کے واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی میں کشیدگی کے پیش نظر سیکورٹی کے پختہ اور سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز