وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے دورہ کے خلاف کشمیر میں مکمل ہڑتال، سری نگر میں سخت ترین پابندیاں

Sep 10, 2017 12:56 PM IST | Updated on: Sep 10, 2017 12:56 PM IST

سری نگر: مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ کے ’چار روزہ دورہ جموں وکشمیر‘ کے خلاف وادی میں اتوار کو علیحدگی پسندوں کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے گزشتہ روز وزیر داخلہ کی کشمیر آمد کے موقع پر 10 ستمبر کو ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیری عوام اس روز مکمل ہڑتال کرکے پوری دنیا پر واضح کریں کہ ان کی مبنی برحق جدوجہد کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبایا نہیں جاسکتا۔

ہڑتال کے دوران پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مختلف حصوں بالخصوص پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں کا نفاذ مسلسل تیسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ سری نگر کا کہنا ہے کہ پابندیاں جاری رکھنے کا اقدام کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ ریاست کی مجموعی صورتحال اور ریاست سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی کے خصوصی پیکیج کی عمل آوری کا جائزہ لینے کے علاوہ مختلف طبقوں کی نمائندگی کرنے والی وفود سے ملاقات کی غرض سے ریاست کے چار روزہ دورے پر آئے ہوئے ہیں۔

وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے دورہ کے خلاف کشمیر میں مکمل ہڑتال، سری نگر میں سخت ترین پابندیاں

file photo

گرمائی دارالحکومت سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں اتوار کو علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم سرکاری دفاتر، بینک اور تعلیمی ادارے اتوار کی تعطیل کے سبب بند رہے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے کچھ حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ شمالی کشمیر کے تمام قصبوں و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بھی علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال کی گئی۔

شمالی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔بارہمولہ سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں جہاں تمام تجارتی اور دیگر سرگرمیاں معطل رہیں۔ قصبے میں اولڈ ٹاون کو سیول لائنز کے ساتھ جوڑنے والے پلوں پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔ اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے اس اور دیگر قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج رہے۔ جنوبی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔

جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوں بالخصوص قصبہ جات میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔ ہڑتال کی اطلاعات وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام اور گاندربل سے بھی موصول ہوئیں۔ دوسری جانب سری نگر کے 6 پولیس تھانوں بشمول خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج، رعناواری اور مائسمہ میں اتوار کو لوگوں کی نقل وحرکت پر سخت ترین پابندیاں نافذ رہیں۔ ان میں سے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقے ایسے ہیں، جہاں پابندیوں کا نفاذ جمعہ سے بدستور جاری ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز