جنوبی کشمیر میں دوسرے دن بھی ہڑتال جاری ، دیگر حصوں میں معمولات زندگی بحال

Jun 18, 2017 03:21 PM IST | Updated on: Jun 18, 2017 03:21 PM IST

سری نگر : جنوبی کشمیر کے چار اضلاع اننت ناگ، پلوامہ، شوپیان اور کولگام میں ایک مسلح تصادم کے دوران دو عام شہریوں اور تین مقامی جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی تعزیتی ہڑتال سے عام زندگی مفلوج رہی۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ اگرچہ جنوبی کشمیر کے کچھ بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں ہفتہ کی صبح لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر عائد کردہ پابندیاں ہٹالی گئی ہیں، تاہم کسی بھی طرح کے تشدد کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بدستور جاری رکھی گئی ہے۔

اگرچہ علیحدگی پسند قیادت یا کسی دوسری تنظیم نے آج کوئی ہڑتال کال نہیں دی تھی، لیکن باوجود اس کے جنوبی کشمیر کے سبھی چار اضلاع پلوامہ، اننت ناگ، شوپیان اور کولگام میں دکانیں اور تجارتی مراکز شٹرڈاون رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ تاہم جنوبی اضلاع کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں کی سنسان سڑکوں پر سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی بھاری جمعیت گشت کرتی ہوئی نظر آئی۔

جنوبی کشمیر میں دوسرے دن بھی ہڑتال جاری ، دیگر حصوں میں معمولات زندگی بحال

file photo

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنوبی کشمیر سے گذرنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آواجاہی معمول کے مطابق جاری ہے اور احتیاطی اقدامات کے طور پر اس اہم ترین شاہراہ پر سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ 15 جون کی شام کو سری نگر کے مضافاتی علاقہ رنگریٹ میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک نوجوان کی موت اور 16 جون کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے آرونی میں جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والے مسلح تصادم جس کے دوران دو عام شہری اور تین جنگجو ہلاک ہوگئے، وادی میں ایک نئی کشیدگی کا سبب بن گئے تھے۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر 17 جون کو ضلع اننت ناگ کے آرونی اور سری نگر کے رنگریٹ علاقہ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں تین عام کشمیری نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے خلاف مکمل ہڑتال رہی۔

تاہم ایک روزہ ہڑتال کے بعد جنوبی کشمیر کو چھوڑ کر وادی کے بیشتر حصوں میں اتوار کو معمولات زندگی بحال ہوگئے۔ انتظامیہ نے سری نگر کے پائین شہر میں جوپابندیاں نافذ کی تھیں، کو ہٹالیا گیا ہے۔ جن علاقوں میں لوگوں کی نقل وحرکت روکنے کے لئے خاردار تار بچھائی گئی تھی، کو بھی ہٹالیا گیا ہے۔ جن علاقوں میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا، کو کل شام ہی واپس بلایا گیا تھا۔

اتوار کی صبح سری نگر میں بیشتر دکانیں اور تجارتی مراکز کھل گئے جبکہ تمام سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت بحال ہوگئی۔ تاہم سرکاری دفاتر، بینک اور تعلیمی ادارے سرکاری تعطیل ہونے کی وجہ سے بند رہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز