جموں وکشمیر : بیروہ میں فوج کی فائرنگ میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف لگاتار دوسرے دن بھی ہڑتال

وسطی ضلع بڈگام کے بیروہ میں فوج کی فائرنگ سے ایک 25 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی مکمل ہڑتال کی گئی ۔

Jul 23, 2017 01:03 PM IST | Updated on: Jul 23, 2017 01:03 PM IST

سری نگر : وسطی ضلع بڈگام کے بیروہ میں فوج کی فائرنگ سے ایک 25 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی مکمل ہڑتال کی گئی ۔ خیال رہے کہ ضلع بڈگام میں 21 جولائی کو (جمعہ کے روز) فوج کی احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں 25 سالہ نوجوان تنویر احمد پال ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا ۔ پولیس نے فائرنگ کے اس واقعہ میں فوج کی 53 راشٹریہ رائفلز کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے ۔ تنویر احمد پیشے کے اعتبار سے درزی تھا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق قصبہ بیروہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف دوسرے دن بھی بطور احتجاج تمام دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اگرچہ ضلع کے کسی بھی حصے میں پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قصبہ میں امن وامان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ دریں اثنا ضلع بڈگام میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات اتوار کو مسلسل تیسرے دن بھی معطل رہیں۔

جموں وکشمیر : بیروہ میں فوج کی فائرنگ میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف لگاتار دوسرے دن بھی ہڑتال

file photo

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انٹرنیٹ خدمات نوجوان کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے منقطع کی گئیں۔ بڈگام کے ایک رہائشی نے یو این آئی کو بتایا کہ پورے ضلع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات جمعہ کو سہ پہر چار بجے معطل کی گئیں۔ بیروہ میں فوج کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت کے اس واقعہ کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی تھی۔ نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس ہلاکت کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی قرار دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز