ستر سال قبل 27 اکتوبر کو سری نگر میں ہندوستانی فوج اتارنے کے خلاف وادی کشمیر میں ہڑتال

Oct 27, 2017 01:24 PM IST | Updated on: Oct 27, 2017 01:24 PM IST

سری نگر: ستر سال قبل آج ہی کے دن 27 اکتوبر 1947 ء کو جموں وکشمیر کے اُس وقت کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے ریاست کا ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے کے بعد سری نگر میں ہندوستانی فوج اتارنے کے خلاف کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال پر جمعہ کو ریاست کی گرمائی درالحکومت سری نگر کے علاوہ وادی کے دوسرے تمام بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹرس میں مکمل ہڑتال سے زندگی کے معمولات درہم برہم ہوکر رہ گئے۔

سری نگراور وادی کے دیگر قصبہ جات و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر کشمیر انتظامیہ نے شہر کے 7 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیوں نافذ کردیں۔ ہڑتال کے پیش نظر جمعہ کو وادی بھر میں ریل خدمات معطل رکھی گئیں۔

ستر سال قبل 27 اکتوبر کو سری نگر میں ہندوستانی فوج اتارنے کے خلاف وادی کشمیر میں ہڑتال

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 70 برس قبل آج ہی کے دن 27 اکتوبر کو ہندوستانی فوج ہوائی جہازوں کے ذریعے سری نگر ائرپورٹ پر اتری تھی اور قبائلی حملہ آوروں جنہیں مبینہ طور پر پاکستان کی پشت پنائی حاصل تھی، کے خلاف لڑی تھی۔ جموں وکشمیر کے اُس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے قبائلی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت ہند سے فوجی امداد کی باضابطہ درخواست کی تھی جو حکومت ہند نے دستاویز الحاق کی منظوری کے ساتھ ہی پوری کی تھی۔

تاہم ریاست کی سرمائی دارالحکومت جموں اور خطہ کے چند دیگر اضلاع میں ’یوم الحاق‘ کو جمعرات کے روز ’ویلے دیوس‘ کے طور پر منایا گیا۔ بی جے پی نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ’ویلے دیوس‘ کو اسی جوش و جذبے سے منائیں گے جس طرح دیوالی کا تہوار منایا جاتا ہے۔ مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے گذشتہ روز یہ کہتے ہوئے 27 اکتوبر کو مکمل ہڑتال کرنے کی اپیل کی تھی کہ 70 سال قبل آج ہی کے دن بھارتی فوج نے بغیر کسی آئینی اور اخلاقی جواز کے جموں کشمیر پر جبری قبضہ جمایا اور جب سے یہ فوج نہتے کشمیریوں کو قتل کررہی، ان کے گھروں کو اُڑا رہی اور ان کے عزتوں کو پامال کررہی ہے۔ علیحدگی پسند قیادت کا کہنا ہے کہ 27اکتوبر 1947ء کا دن وہ منحوس دن ہے، جب کشمیری عوام کی آزادی کو زبردستی ان سے چھین لیا گیا اور بھارت نے ان کی مرضی اور منشا کے خلاف یہاں اپنی افواج کو اُتارا۔ زبردستی کیے گئے اس قبضے سے متعلق نہ اُس وقت جموں کشمیر کے لوگوں کی رائے معلوم کرلی گئی اور نہ آج ان کی امنگوں اور آرزوؤں کا احترام کیا جاتا ہے۔

مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے مہاراجہ ہری سنگھ کے بھارت کے ساتھ کیے گیے الحاق کو متنازعہ، غیر معتبر اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک تو محققین نے اس الحاق کے وقوع پذیر ہونے پر ہی کئی اہم سوالات اور اعتراضات اٹھائے ہیں اور دوئم مہاراجہ کو اس طرح کا الحاق کرنے کا لوگوں کی طرف سے کوئی منڈیٹ ہی حاصل نہیں تھا۔ ایک فردواحد کو آخر کس نے یہ حق اور اختیار دیا تھا کہ وہ لاکھوں انسانوں کے مستقبل کا فیصلہ از خود کرتا اور وہ بھی اس وقت، جب اس کے خلاف بغاوت ہوچکی تھی اور وہ اپنا سنگھاسن چھوڑ کر سری نگر سے جموں کی طرف بھاگ گیا تھا۔

وادی کے سبھی دس اضلاع سے غیرمعمولی ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ہڑتال کے دوران جہاں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں، وہیں سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہیں۔ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔ انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے سات پولیس تھانوں میں کرفیو جیسی پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہر کے سات پولیس تھانوں بشمول خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج ، رعناواری ، کرال کڈھ اور مائسمہ میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں ‘۔تاہم اس دعوے کے برخلاف پائین شہر کے ان علاقوں کی زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ ان علاقوں میں پابندیوں کو سختی نافذ کرانے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات رہے۔

یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعہ کی صبح پائین شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ پابندی والے علاقوں میں تمام راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا۔ نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے نامہ نگار کو بتایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات تھے جبکہ اس کے باب الداخلے کو مقفل کردیا گیا تھا۔

تاہم صفا کدل اور عیدگاہ کے راستے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑکوں کو بیماروں اور تیمارداروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا۔ تاہم سیول لائنز میں اکادکا گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔

جنوبی کشمیر سے موصولہ رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے سبھی قصبوں میں ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے۔اِن قصبوں میں تجارتی مراکز بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل معطل رہی۔ تاہم ایک رپورٹ کے مطابق سری نگر جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل وحمل معمول کے مطابق چلتی رہی تھی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے اس پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔

جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، شوپیان، پلوامہ اور کولگام قصبہ جات میں بھی امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے موصولہ اطلاع کے وہاں کے سبھی قصبہ جات میں ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر رہی۔ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل معطل رہی جبکہ دُکانیں اور تجارتی ادارے بند رہے۔

شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور ایپل ٹاون سوپور میں سیکورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔ ایسی ہی اطلاعات وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام اور گاندربل سے بھی موصول ہوئیں۔ علیحدگی پسند قائدین کا کہنا ہے کہ خودانڈین نیشنل کانگریس نے خود مختار ریاستوں سے متعلق یہ موقف اور اسٹینڈ اختیار کیا تھا کہ ان کے مستقبل کے تعین کا فیصلہ راجے مہاراجے نہیں، بلکہ وہاں کے عوام کریں گے اور ان سے پوچھ کر ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا۔

حیدرآباد دکن اور جوناگڑھ کے اس وقت کے حکمران اپنی اپنی ریاست کو پاکستان کے ساتھ ملانا چاہتے تھے، البتہ بھارت نے یہ کہہ کر فوجی ایکشن کیا کہ یہ تقسیم ہند کے بنیادی قاعدوں اور یہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف ہے، البتہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکمرانوں نے دوہرے معیار اور دوعملی کی پالیسی کو اختیار کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز