پلوامہ ہلاکتوں کے خلاف کشمیر بھر میں ہڑتال ، سری نگر کی تاریخی جامع مسجد پھر مقفل

Mar 10, 2017 04:26 PM IST | Updated on: Mar 10, 2017 04:26 PM IST

سری نگر: وادئ کشمیر میں جمعہ کو علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ہڑتال کی کال جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں جمعرات کو ہونے والی دو شہری ہلاکتوں کے خلاف دی تھی۔ خیال رہے کہ ضلع پلوامہ کے پدگام پورہ میں جمعرات کو ہونے والے ایک مسلح تصادم اور تصادم کے مقام پر مقامی لوگوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں لشکر طیبہ سے وابستہ 2 جنگجو اور ایک 16 سالہ کمسن طالب علم سمیت 2 عام شہری جاں بحق ہوگئے۔

ایک پولیس عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ اگرچہ وادی کے کسی بھی حصے میں پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ لیکن اس دعوے کے برخلاف سری نگر کے پائین شہر کے نوہٹہ علاقہ میں پابندیوں کے باعث تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا نہ کی جاسکی۔ نوہٹہ کے باشندوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح سیکورٹی فورسز کے اضافی اہلکار تاریخی جامع مسجد کے باہر تعینات کردیے گئے اور صبح سے ہی کسی بھی شخص کو مسجد کے احاطے کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پلوامہ ہلاکتوں کے خلاف کشمیر بھر میں ہڑتال ، سری نگر کی تاریخی جامع مسجد پھر مقفل

انہوں نے بتایا کہ مسجد کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا۔ مسجد کے موزن کو بھی ازان دینے کے لئے مسجد کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سری نگر کی اس تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں ہر جمعہ کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ وادی کے مختلف علاقوں سے آکر نماز جمعہ ادا کرتے ہیں جبکہ یہاں حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق خود جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں جنہیں جمعہ کی صبح اپنی نگین رہائش گاہ پر نظربند کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ وادی میں گذشتہ برس 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے ساتھ ہی کشمیر انتظامیہ نے اس 622 برس قدیم تاریخی جامع مسجد کو سخت محاصرے میں لیکر اس کے باب الداخلے مقفل کردیے تھے۔ انیس ہفتوں تک مقفل اور سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں رہنے کے بعد کشمیری عوام کی اس سب سے بڑی عبادت گاہ میں قریب پانچ ماہ بعد 25 نومبر کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

مورخین کے مطابق 1842 ء کے بعد 2016 ء میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ جب کسی حکومت نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کو مسلسل ساڑھے چار ماہ تک مقفل رکھا۔ 19 ویں صدی میں اس تاریخی مسجد کو سکھ حکمرانوں نے 1819 ء سے 1842 ء تک مسلسل 23 برسوں تک بند رکھا تھا۔ ہڑتال کی کال پر وادی بھر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم کچھ ایک سڑکوں پر اکا دکا نجی و چھوٹی مسافر گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔

سرکاری دفاتر، بینکوں اور مالیاتی اداروں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے۔ادھر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنز بشمول جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے گڑھ مانے جانے والے مائسمہ علاقہ میں تجارتی اور دیگر سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر متاثر رہی۔ تاریخی لال چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، مولانا آزاد روڑ، بتہ مالو، اقبال پارک، ڈلگیٹ، ریگل چوک اور بڈشاہ چوک میں تقریباً تمام دکانیں بند رہیں۔

ایسی ہی صورتحال بالائی شہر کے علاقوں میں بھی نظر آئی۔ دوسری جانب جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ جہاں جمعرات کو مسلح تصادم کے دوران بیگم باغ کاکہ پورہ کا رہنے والا 16 سالہ طالب عامر نذیر وانی ولد نذیر احمد وانی سینے میں گولی لگنے جبکہ تہاب پلوامہ کا رہنے والا ایک 23 سالہ نوجوان جلال الدین دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوئے، میں آج دوسرے دن بھی صورتحال کشیدہ رہی۔

جنوبی کشمیر کے دیگر قصبہ جات اور تحصیل ہیدکوارٹروں میں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ پلوامہ کے ترال علاقہ جہاں 5 مارچ کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں دو جنگجو مارے گئے، میں آج مسلسل چھٹے دن بھی معمولات زندگی مفلوج رہے۔ ہڑتال کی کال پر وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آواجاہی معطل رہی۔

بارہمولہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبہ جات اور تحصیل ہیدکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ تعلیمی ادارے بند رہے۔ شمالی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ دریں اثنا شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے مالنگام میں جمعہ کو بارشوں اور برف باری کے باوجود حزب المجاہدین جنگجو مشتاق احمد سیر کے جلوس جنازہ میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مذکورہ جنگجو کو جمعرات کی شام سیکورٹی فورسز نے بانڈی پورہ پولیس تھانہ کے باہر ایک مختصر جھڑپ میں جاں بحق کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز