بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کا پھر منتازع بیان ، بی ایچ یو طالبات کے احتجاج کا نکسلی آندولن سے کیا موازنہ

Sep 25, 2017 01:24 PM IST | Updated on: Sep 25, 2017 01:24 PM IST

نئی دہلی : متنازع بیانات کی وجہ سے اکثر سرخیوں میں رہنے والے بی جے پی کے سینئر لیڈر سبرامنیم سوامی اب بنارس ہندو یونیورسٹی میں احتجاج کررہی طالبات کو لے کر اپنے بیان کی وجہ سے تنازع میں پھنس گئے ہیں اور سرخیوں میں ہیں۔ اے این آئی ایجنسی کے مطابق سبرامنیم سوامی نے احتجاج کررہی طالبات کا موازنہ ماونوازوں سے کیا ہے ۔ سوامی نے کہا کہ طالبات کی جانب سے جاری احتجاجی مظاہرہ نکسلی تحریک کی طرح لگتا ہے ۔

ساتھ ہی ساتھ سوامی نے یہ بھی کہا کہ وہ بی ایچ یو کے وائس چانسلر کی پوری حمایت کرتے ہیں۔ سوامی نے کہا کہ میں اس معاملہ میں وائس چانسلر کی حمایت کرتا ہوں کیونکہ طالبات کا احتجاج نکسلی آندولن کی طرح لگ رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ طالبات وی سی کے آفس میں گھسنا چاہتی تھیں ، جہاں تشدد پھیلنے کا امکان تھا۔

بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کا پھر منتازع بیان ، بی ایچ یو طالبات کے احتجاج کا نکسلی آندولن سے کیا موازنہ

فائل فوٹو

علاوہ ازیں سبرامنیم سوامی نے اترپردیش کی یوگی حکومت کی بھی اس معاملہ میں حمایت کی ۔ سوامی نے کہا کہ یوگی حکومت نے اس معاملہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے جو ایک اچھا قدم ہے۔ سوامی نے مزید کہا کہ یہ غیر حقیقی لگ رہا ہے ، کیونکہ طالبات کہہ رہی ہیں کہ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے ، لیکن ہمیں ان کی شناخت کا علم نہیں اور یہ دیگر طلبہ کو کیسے پتہ چلا اور کیا لڑکیوں نے فوری طور پر اس کی رپورٹ دی یا نہیں ۔

خیال رہے کہ بی ایچ یو طالبات پرلاٹھی چارج کے معاملہ میں ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جانچ کے احکامات دئے ہیں ۔ اس سلسلہ میں جہاں پولیس نے تقریبا 1200 نامعلوم طالبات کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ، وہیں یوگی حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے لنکا تھانہ کے ایس او راجیو سنگھ کو لائن حاضر کردیا ہے جبکہ بھیلوپور علاقہ کے سی او نویش کٹاریا اور ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ کو ہٹادیا گیا ہے۔ ادھر طالبات اب بی ایچ یو اور وارانسی کے دیگر کالجوں سے جانے بھی لگی ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز