Live Results Assembly Elections 2018

جموں و کشمیر سے متعلق دفعہ 35 اے پرسپریم کورٹ میں سماعت ملتوی ، مرکزی حکومت کو تین ماہ کی مہلت

جموں و کشمیر کو خصوصی اختیارات دینے سے متعلق دفعہ پینتیس اے پر پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت میں ہوئی ۔

Oct 30, 2017 07:18 PM IST | Updated on: Oct 30, 2017 07:20 PM IST

نئی دہلی : جموں و کشمیر کو خصوصی اختیارات دینے سے متعلق دفعہ 35 اے پر پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت میں ہوئی ۔ تین ججوں کی بینچ نے اس معاملہ کی سماعت شروع کی ، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے ایک حلف نامہ داخل کرکے کہا کہ مرکزی حکومت نے کشمیر میں قیام امن کیلئے ایک نمائندہ مقرر کیا اور اس مسئلہ پر کسی بھی فیصلہ سے وادی میں قیام امن کی کوششوں کو جھٹکا لگ سکتا ہے ، اس لئے حکومت کو اپنا موقف پیش کرنے کیلئے مہلت دی جائے ۔ جس پر عدالت نے حکومت کو تین ماہ کی مہلت دیدی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ ایک غیر سرکاری تنظیم وی دی سٹیزن کی ایک مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کررہا ہے ۔ عرضی میں دفعہ 35 اے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا گیا ہے ، لیکن یہ ان شہریوں کے ساتھ بھید بھاو پر مبنی ہے ، جو دیگر ریاستوں سے آکر یہاں بسے ہوئے ہیں ۔

جموں و کشمیر سے متعلق دفعہ 35 اے پرسپریم کورٹ میں سماعت ملتوی ، مرکزی حکومت کو تین ماہ کی مہلت

سپریم کورٹ آف انڈیا: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز۔

Loading...

ادھر کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی ،میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دفعہ 35 اے (سٹیٹ سبجیکٹ قانون) میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کے خلاف عوام کو احتجاج کے لئے تیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی منصوبہ ہمیں منظور نہیں جس کا مقصد جموں کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرکے اس کی متنازء سیاسی حیثیت متاثر کرنا ہو ۔اتوار کے روز یہاں جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ سوموار کوسپریم کورٹ کی جانب عوامی جذبات کے خلاف کوئی فیصلہ سامنے آیا تو اسی وقت عوامی سطح پر ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی ۔ انہوں نے واضح کیاکہ اس طرح کی کسی بھی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور اس بات کو دہرایا کہ اس طرح کے اقدامات کرکے یہاں فلسطین جیسی صورت حال پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے ۔

انھوں نے اپنے مشترکہ بیان میں اس بات کا خلاصہ کیا ایک سازش کے تحت مسلم اکثریتی شناخت ختم کرنے کی سازشیں رچائی جارہی ہیں اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر اس طرح کی کسی سازش کو کامیاب ہونے دیا گیا تو بیرون ریاست سے لوگ آکر زمین خریدکر یہاں فلسطین جیسی صورت حال پیدا کریں گے لیکن ریاستی عوام ایسی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ علیحدگی پسند قیادت نے اس سلسلے میں علماء ،دانش وروں ،سول سوسائٹی،وکلاء اور سماج کے دیگر حساس طبقوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کو اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کی حساسیت ،اسے ہٹانے یا ترمیم کرنے کے منصوبوں سے متعلق آگاہ کریں اور ضروری جانکاری دیں اور بین الاقوامی برادری کو آبادیاتی تشخص میں ممکنہ تبدیلیوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر ممکنہ اثرات سے متعلق معلومات فراہم کریں

 

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز