بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ: فریقین کو منظور نہیں سپریم کورٹ کا مشورہ

Mar 21, 2017 05:47 PM IST | Updated on: Mar 21, 2017 05:47 PM IST

اجودھیا۔ ملک کی سیاسی سمت بدل دینے والے اجودھیا کے مندر- مسجد تنازعہ كو آپسی رضامندی سے حل کئے جانے کے سپریم کورٹ کے مشورے کا ایک طرف جہاں مقامی لوگوں نے تہہ دل سے خیر مقدم کیا ہے، وہیں دوسری جانب اس معاملے سے جڑے فریقوں نے اس پیشکش کو قبول سے انکار کردیا ہے۔ اسّی کی دہائی سے مندر- مسجد تنازعہ کا درد برداشت کرنے والے اجودھیا اور اطراف کے باشندے اس مسئلے کا جلد حل چاہتے ہیں۔ حل چاہے بات چیت سے ہو یا عدالتی فیصلے سے ہو، مگر وہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ جلد نمٹ جائے۔ سال 1990 میں کارسیوکوں پر فائرنگ میں اپنے بیٹے راجندر دھركار کو کھونے والے رمیش کہتے ہیں کہ "اب بہت ہو چکا۔اس مسئلے کا حل نکلنا ہی چاہئے۔ اس تنازعہ نے اجودھیا کو کافی پیچھے دھکیل دیا"۔ ادھر، اس مقدمے کے فریق وشو ہندو پریشد، نرموہی اكھاڑہ اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ معاملہ کافی آگے بڑھ گیا ہے۔ تمام فریقوں کو اعتماد ہے کہ جیت انہی کی ہوگی ، تاہم، وہ صلح و مصالحت کے امکان سے براہ راست انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملہ اب کافی آگے بڑھ گیا ہے۔ لہذا یہ معاملہ اب عدالت میں ہی حل ہو سکتا ہے۔ وشوهندو پریشد اس معاملے کا حل پارلیمنٹ سے قانون بنا کر بھی بتاتے ہیں، لیکن بات چیت سے مسئلے کے حل کے امکان کو سرے سے مسترد کرتے ہیں۔

اجودھيا کے مشہور مندر رام ولبھا کنج کے مهنت راجکمار داس کہتے ہیں کہ یہ سمجھوتہ تبھی ممکن ہو گا جب فریقین "دو قدم پيچھے- چار قدم آگے" ہونے کو تیار ہوں۔ جب اپنی اپنی ضد پر ہی لوگ اڑے رہیں گے تو سمجھوتہ کس طرح ممکن ہے۔ مہنت راجکمار داس نے کہا کہ اس مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش چندر شیکھر کے دور میں ہوئی تھی جب دونوں فریقین معاملے کے حل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دونوں فریقوں میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ کر کئی دور کی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو کاغذات بھی سونپ دیے تھے۔ حلف نامے کے ذریعے کہہ دیا گیا تھا کہ بات نہیں بننے پر عدالت کا حکم مانیں گے۔ دونوں فریق آپسی صلح کی طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ بد قسمتی سے چندر شیکھر جی کی حکومت گر گئی اور معاملہ درمیان ہی میں لٹک گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت تحریک کا آغاز تھا۔ معاملہ بہت سنگین نہیں بن پایا تھا۔ متنازعہ ڈھانچہ بھی محفوظ تھا، لیکن ڈھانچہ تباہ ہونے کے بعد حالات بدل گئے ہیں اور اب تمام فریق ہی یہ مان کر چل رہے ہیں کہ فیصلہ انہیں کے حق میں آئے گا، اس لئے آپسی رضامندی سے کیس کے حل کے امکانات نہیں کے برابر ہیں۔

بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ: فریقین کو منظور نہیں سپریم کورٹ کا مشورہ

ان کا کہنا ہے کہ 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ برانچ کی خصوصی بنچ کے حکم سے تمام فریقین اپنی ہی جیت کے لئے مطمئن ہوگئے۔ ہائی کورٹ نے متنازعہ اراضی کو تینوں فریقوں سنی سینٹرل وقف بورڈ، رام للا اور نرموہی اكھاڑے میں برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف فریق سپریم کورٹ چلے گئے۔ سپریم کورٹ نے ہائي کورٹ کے حکم پر روک لگاتے ہوئے اس پر سماعت شروع کر نے کا فیصلہ کیا تھا۔دوسری طرف، سپریم کورٹ کے آج کے مشورے کو وشو ہندو پریشد، سینٹرل سنی وقف بورڈ اور نرموہی اكھاڑے نے سرے سے خارج کردیا۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر اور سینٹرل سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا کہ 1990 سے ہی صلح کی کوشش چل رہی ہے۔ معاملہ آگے بڑھ گیا ہے۔ آپسی رضامندی سے حل نہیں نکلے گا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس براہ راست مداخلت کریں تو ہو سکتا ہے کچھ بات بن جائے۔

وشو ہندو پریشد کے ترلوکی پانڈے نے کہا کہ رام جنم بھومی مذہبی جذبے اور عقیدت کا معاملہ ہے۔ اس کا حل تبھی ہو سکتا ہے جب دوسرے فریق بھی یہ مان لیں کہ متنازعہ مقام ہی رام جنم بھومی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1949 سے معاہدے کے کئی دور چلے لیکن نتیجہ صفر رہا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج پلک باسو نے بھی معاہدے کی کوشش کی تھی۔ مسٹر پانڈے نے کہا کہ اس معاملے کا حل عدالت سے یا پارلیمنٹ سے قانون بنا کر نکالا جا سکتا ہے۔ اکثریتی طبقہ کی خواہش کو بہت برتر رکھنا ہی ہوگا۔ اس کیس کا ایک دوسرے فریق نرموہی اكھاڑہ بھی مانتا ہے کہ معاملے کا حل مندر کی تعمیر سے ہی نکلے گا لیکن معاہدے میں اگر اسے ہی بنیاد بنایا گیا تو سنی سینٹرل وقف بورڈ ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔اس لئے آپسی بات چیت سے حل نکلنے کا امکان نہیں کے برابر ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز