تین طلاق اکثریت بمقابلہ اقلیت کا معاملہ نہیں، پڑھیں چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل میں کیا کیا ہوئے سوال و جواب

May 17, 2017 05:59 PM IST | Updated on: May 17, 2017 05:59 PM IST

نئی دہلی: تین طلاق پر سپریم کورٹ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وکیل کپل سبل کو مشورہ دیا ہے کہ مسلم خواتین کو نکاح نامہ میں تین طلاق کے لئے انکار کرنے کا اختیار دیا جا سکتا ہے؟ آپ ایسی تجویز پاس کیوں نہیں کرتے کہ نکاح کے وقت ہی قاضی خاتون کو یہ اختیار دے کہ وہ نكاح نامہ میں تین طلاق کا انکار کرسکتی ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے کپل سبل نے کہا یہ اچھی تجویز ہے۔

ادھر بحث کے دوران حکومت ہند کے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ تین طلاق کا معاملہ معاملہ اکثریت بمقابلہ اقلیت کا نہیں ہے۔ اس پر مسلم سماج کے اندر ہی ایک ٹکراو ہے۔

تین طلاق اکثریت بمقابلہ اقلیت کا معاملہ نہیں، پڑھیں چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل میں کیا کیا ہوئے سوال و جواب

اس معاملہ پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل کے درمیان کیا کیا سوال و جواب ہوئے ، یہاں پڑھیں ۔

اٹارنی جنرل : تین طلاق کا معاملہ معاملہ اکثریت بمقابلہ اقلیت کا نہیں ہے۔ اس پر مسلم سماج کے اندر ہی ایک ٹکراو ہے۔

چیف جسٹس نے کہا لیکن سبل کہہ رہے ہیں کوئی ٹکراو نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا یہ ٹکراو سماج میں ہی خواتین اور مردوں کے درمیان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد کمانے والے ہیں، زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ایک بار پھر آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ تین طلاق منسوخ کر دیے جائیں تو کیا ہوگا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر کورٹ ایسا فیصلہ دیتا ہے تو حکومت قانون لانے کیلئے تیار ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کام آپ پہلے کیوں نہیں کرتے؟ ہمارے حکم کا انتظار کیوں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہاں سوال حکومت کا نہیں بلکہ اس بات کا انتظار ہے کہ کورٹ اس معاملے میں کیا کرتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ حلف نامے میں پرسنل لاء بورڈ خود کہہ رہا ہے کہ تین طلاق گناہ ہے، ناپسندیدہ ہے تو ایسے میں صاف ہے کہ تین طلاق اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے اور جو لازمی نہیں ہے اس کو آئین کی طرف پروٹیکشن کس طرح دیا جا سکتا ہے؟

جسٹس كورين نے پوچھا کپل سبل کہہ رہے ہیں کہ یہ پرسنل لاء کا معاملہ ہے اسے آئینی حقوق کی کسوٹی پر ٹیسٹ نہیں کیا جا سکتا؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ تین طلاق کا معاملہ بھی آئینی حق کے تحت ہی دیکھا جانا چاہئے۔ پرسنل لاء بھی آئین کی کسوٹی پر ٹیسٹ ہوتے ہیں، کیونکہ یہ مذہب کا لازمی حصہ نہیں ہے تو اس صورت میں مذہبی آزادی کے حق کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ بورڈ کہہ رہا ہے کہ یہ 1400 سال پرانی روایت ہے جو عقیدہ کا ایک حصہ ہے۔ اس میں کورٹ کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ روایات کی بات ہے تو ستی رواج، چھواچھوت اور بیواؤں کی شادی جیسی روایات ختم کی گئیں۔

جسٹس كورين نے کہا آپ ان کا ذکر کر رہے ہیں ، لیکن یہ تو مقننہ کی طرف سے قانون بنا کر ختم کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ لیکن روایت کے نام پر کیا کوئی بھی برادری یہ کہہ سکتی ہے کہ "نربلی"ہماری روایت ہے؟

جسٹس كورين- لیکن کیا یہ بات جانوروں کی قربانی پر بھی نافذ ہوتی ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے جان بوجھ کر نربلی کا ذکر کیا ہے ، یہ آئینی حقوق سے وابستہ معاملہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا لیکن آئین مذہبی آزادی کا حق بھی دیتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مذہبی آزادی کا حق اپنے آپ میں مکمل نہیں ہے۔ مثال کے طور پر آئین کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے کسی بھی مسجد میں جاکر نماز پڑھ سکتا ہے، لیکن کوئی تاج محل میں جا کر نماز نہیں پڑھ سکتا ،کیونکہ یہ پبلک آرڈر کا معاملہ ہے۔

قبل ازیں منگل کو مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے کپل سبل نے کہا کہ تین طلاق 1400 سال پرانی رسم ہے اور یہ قبول کی گئی ہے۔ یہ معاملہ عقیدہ کا ہے ، جو 1400 سال سے چل رہا ہے ، تو یہ غیر اسلامی کس طرح ہے۔ یہ سارا معاملہ ایمان کا ہے ۔ پرسنل لاء قرآن اور حدیث سے آیا ہے۔ کیا کورٹ قرآن میں لکھی ہر آیت اور الفاظ کی تشریح کرے گا؟ آئینی اخلاقیات اور مساوات کے اصول تین طلاق پر نافذ نہیں ہو سکتا ، کیونکہ یہ عقیدہ کا موضوع ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز