بین مذاہب شادی کا معاملہ : کیرالہ حکومت اور این آئی اے کو سپریم کورٹ کا نوٹس ، ایک ہفتہ میں جواب طلب

Aug 04, 2017 08:15 PM IST | Updated on: Aug 04, 2017 08:16 PM IST

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے کیرالہ میں بین مذہب شادی کے ایک معاملے میں آج ریاستی حکومت اور قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) سے جواب طلب کیا۔ چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر اور جسٹس ڈی وائی چدرچوڑ کی بنچ نے مذہب تبدیل کرکے شادی رچانے والی لڑکی کے مسلم شوہر کی عرضی پر سماعت کے دوران این آئی اے، کیرالہ کی حکومت اور لڑکی کے والد کو نوٹس جاری کئے اور ایک ہفتے کے اندر اندر جواب دینے کو کہاہے۔

عدالت نے معاملے کو حساس بتاتے ہوئے لڑکی کے والد کو اس معاملے سے متعلق تمام دستاویزات ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا کہ جب بھی ضرورت ہو گی لڑکی کو 24 گھنٹے میں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔معاملے کی اگلی سماعت اگلے ہفتے ہوگی۔

بین مذاہب شادی کا معاملہ : کیرالہ حکومت اور این آئی اے کو سپریم کورٹ کا نوٹس ، ایک ہفتہ میں جواب طلب

فائل فوٹو

بظاہر معاملہ محبت کی شادی کا ہے اورلڑکی کے گھر والے اس شادی کی شروع سے ہی مخالفت کرتے آرہے تھے۔ لڑکی کے والد نے کیرالہ ہائی کورٹ میں تبدیلی مذہب اور شادی کو ختم کرنے کے لئے درخواست دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے بھی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شادی لڑکی کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہے اور اسے اس میں اپنے والدین کی مشورہ حاصل کرنا چاہیے تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ مبینہ شادی بکواس ہے اور قانون کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لڑکی کے والد نے ہائی کورٹ میں یہ الزام بھی لگایاتھا کہمسلم لڑکے نے سوچی سمجھی سازش کے تحت دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ میں شامل کرنے کے لئے ان کی بیٹی کا پہلے مذہب بدلوایااورپھر جھوٹی محبت کا ڈھونگ کرکے شادی رچا لی۔

لڑکے نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اس نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ کو کسی کی بھی شادی مسترد کرنے کا حق نہیں ۔خاص طور پر تب جب لڑکا-لڑکی دونوں پڑھے لکھے اور سمجھدار ہوں اور ان کی دماغی حالت بھی ٹھیک ہو۔ اس طرح کی بندش سے ہندستانی خواتین کی آزادی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ہندو لڑکی سے ہوئی اس کی شادی کو منسوخ کر دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز