مسلم پرسنل لا بورڈ سے سپریم کورٹ کا سوال ، کیا خاتون کو نکاح نامہ میں تین طلاق ماننے سے کر سکتی ہے انکار

May 17, 2017 04:54 PM IST | Updated on: May 17, 2017 04:54 PM IST

نئی دہلی : تین طلاق کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ درخواست گزاروں اور حکومت ہند کا موقف سننے کے بعد اب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف سنا جا رہا ہے۔ کورٹ نے بدھ کو پوچھا کہ کیا ایک خاتون شادی کے معاہدے میں تین طلاق کو قبول کرنے سے انکار کر سکتی ہے۔ چیف جسٹس جے ایس كھیهر نے آج مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل کپل سبل سے پوچھا کہ 'کیا قاضی نکاح نامہ تیار کرتے وقت شادی کے کنٹراکٹ میں بیوی کو تین طلاق سے انکار کرنے کا اختیار دیتا ہے؟'۔

تب سبل نے کہا کہ یہ بہت اچھا مشورہ اور بورڈ اس پر ضرور توجہ دے گا۔ ساتھ ہی ساتھ سبل نے کورٹ میں ایک سروے بھی پیش کیا ، جس کے مطابق مسلمانوں میں صرف 0.37 فیصد لوگ ہی تین طلاق کو ترجیح دیتے ہیں۔کپل سبل نے تین طلاق کے حق میں دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ختم ہوتی روایت ہے اور اسے آئینی مسئلہ بنانا سود مند نہیں ہو گا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے طلاق کو لے کر 14 اپریل 2017 کو ایک کوڈ آف کنڈکٹ بھی جاری کیا۔

مسلم پرسنل لا بورڈ سے سپریم کورٹ کا سوال ، کیا خاتون کو نکاح نامہ میں تین طلاق ماننے سے کر سکتی ہے انکار

خیال رہے کہ تین طلاق کے مسئلہ پر منگل کو بھی سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے بورڈ کی دلیلیں سنی تھیں۔ بورڈ کے وکیل کپل سبل نے کہا تھا کہ تین طلاق عقیدت کا معاملہ ہے۔وکیل کپل سبل نے کہا کہ مسلمان گزشتہ 1400 سالوں سے اس پرعمل کرتے آ رہے ہیں، لہذا اس صورت میں اخلاقیات اور مساوات کا سوال نہیں اٹھتا ۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق اسی طرح عقیدت کا معاملہ ہے جیسے کہ ہندو مانتے ہیں کہ بھگوان رام ایودھیا میں پیدا ہوئے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز