تین طلاق : آج سے سپریم کورٹ میں 9 دنوں تک لگاتار ہوگی سماعت ، ان ججوں کی بینچ کرے گی سماعت

May 10, 2017 08:54 PM IST | Updated on: May 11, 2017 08:59 AM IST

نئی دہلی: سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ مسلمانوں میں تین طلاق، تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ کے رواج کی آئینی وقانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت آج  سے کرے گی۔ یہ سماعت لگاتار 9 دنوں تک جاری رہے گی ۔ معاملے کی سماعت ساڑھے دس بجے سے شروع ہوگی۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ وہ موسم گرما میں چھٹی کے دوران تین طلاق، تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ جیسے رواجوں کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کرے گی۔

آئینی بنچ کی صدارت چیف جسٹس جے ایس کیہر کریں گے جبکہ اس میں چار دوسرے جج بھی شامل ہیں، جن میں جسٹس کورین جوزف، جسٹس روهنگٹن ایف نریمن، جسٹس اودےامیش للت اور جسٹس عبد النظیر کو بنچ میں شامل کیا گيا ہے۔ اس طرح آئینی بنچ میں سکھ، عیسائی، پارسی، ہندو اور مسلم کمیونٹیوں کے ایک ایک جج کو شامل کرکے عدالت عظمی نے اس بات کویقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی آخری فیصلے پر مذہب کی بنیاد پر سوال نہ کھڑے کئے جائیں ۔

تین طلاق : آج سے سپریم کورٹ میں 9 دنوں تک لگاتار ہوگی سماعت ، ان ججوں کی بینچ کرے گی سماعت

سپریم کورٹ مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ اور تعدد ازدواج کے آئینی اور قانونی جواز پر بااختیار طریقے سے اعلان جاری کرنے کے لیے معاملے کی گہرائی سے جانچ کرے گی۔ اٹارنی جنرل مکل رہتگی بنچ کی مدد کریں گے جو اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ عدالت آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی محسوس کرنے کے بعد مسلم پرسنل لا میں کس حد تک مداخلت کرسکتی ہے۔

اس سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس معاملے میں تحریری جواب داخل کر کے کہا تھا کہ تین طلاق کے خلاف داخل عرضی سماعت کے قابل نہیں ہے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو آئین کی طرف سے فراہم کردہ مذہبی آزادی کے حق کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ اسے بنیادی حقوق کی کسوٹی پر نہیں تولا جا سکتا۔بورڈ نے کہا کہ عدالت پرسنل لاء کی نظر ثانی نہیں کر سکتی اور عدالت پرسنل لاء میں دخل نہیں دے سکتی۔

عدالت عظمی نے گزشتہ سماعت کے دوران سابق وزیر قانون اور سینئر وکیل سلمان خورشيد کو اس معاملے میں اپنا غیر جانبدار موقف رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔مسٹر سلمان خورشید نے کیس کا خاص طور سے ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں میں تین طلاق، تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ جیسے طریقوں پرکورٹ کے سامنے اپنا غیر جانبدار موقف رکھنا چاہتے ہیں، جس پر عدالت نے اجازت دے دی تھی اور انہیں اپنا تحریری موقف رکھنے کے لئے دو دن کی مہلت دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے کل تین طلاق کے معاملے پر اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ پرسنل لاء کے نام پر خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی ۔ہائی کورٹ نے تین طلاق کو مساوات کے آئینی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم مرد اس رواج کے ذریعہ اپنی بیویوں سے الگ نہیں ہو سکتے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ پرسنل لاء کا استعمال بھی آئین کے دائرے میں رہ کر ہی کیا جانا چاہئے۔کسی کے حقوق کے خلاف فتوی جاری نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز