بڑی شخصیات کے خلاف مقدمات کی جلد سماعت کے حق میں سپریم کورٹ

مسٹر اشونی اپادھیائے نے عدالت عظمی سے سرکردہ شخصیات کے مفادات کے ٹکراؤ کے معاملے پر یونیفارم پالیسی بنانے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔

Aug 31, 2017 10:06 PM IST | Updated on: Aug 31, 2017 10:06 PM IST

نئی دہلی:  سپریم کورٹ ممبران پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات کی تیزی سے سماعت کا انتظام کئے جانے کے حق میں ہے۔  جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس نوین سنہا کی بنچ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر اشونی اپادھیائے کی درخواست پر سماعت کے دوران آج کہا کہ وہ اس طرح کے معاملات کی سماعت چھ ماہ کے اندر مکمل کئے جانے کے حق میں ہے۔

مسٹر اشونی اپادھیائے نے عدالت عظمی سے سرکردہ شخصیات کے مفادات کے ٹکراؤ کے معاملے پر یونیفارم پالیسی بنانے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔ اس معاملے میں دیگر درخواست گزار نے داغی ممبران پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی، انتظامیہ اور عدلیہ کے اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمات کا جلد تصفیہ کرنے اور ایک بار مجرم قرار پانے کے بعد ان پر الیکشن لڑنے سے تاحیات پابندی لگانے کی درخواست کی ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملے میں 12 ستمبر کو پھر سے سماعت کرے گا۔

بڑی شخصیات کے خلاف مقدمات کی جلد سماعت کے حق میں سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف انڈیا: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز۔

ایک عرضی گزار پرشانت کمار امراؤ کی طرف سے عدالت میں پیش ہوکر سپریم کورٹ بار ایسو ایشن کے صدر روپندر سنکھ سوری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ایسی ہدایت نہیں دیئے جانے کی صورت میں عصمت دری اور قتل کی دھمکی کے مجرم ڈیرہ سچا سودا کے بابا گرمیت رام رحیم بھی جیل میں بند ہونے کے باوجود کوئی سیاسی پارٹی تشکیل دے سکتے ہيں اور سیاسی پارٹی کے سربراہ بن کر الیکشن لڑ سکتے ہيں۔

عدالت نے فوجداری مقدمات میں سزا یافتہ لیڈروں کے زندگی بھر الیکشن لڑنے پر پابندی لگانے سے متعلق درخواست پر الیکشن کمیشن کے غیر واضح موقف اختیار کرنے کے لئے اسے گزشتہ 12 جولائی کو سخت پھٹکار لگائی تھی۔  بنچ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ وہ اس عرضی کی حمایت کرتا ہے؟ لیکن معاملے کی سماعت کے دوران، کمیشن یہ کہہ رہا ہے کہ فوجداری مقدمات میں قصوروار لیڈروں کے الیکشن لڑنے پر وہ تا عمر پابندی کے حق میں نہیں ہے۔ اس طرح کی تضاد بیانی کا کیا معنی ہے؟

عدالت نے کہا تھا کہ ملک کے ایک شہری نے عرضی داخل کرکے کہا ہے کہ ایسے لوگوں پر تاحیات پابندی لگانی چاہئے، کمیشن اس کی حمایت کرتا ہے یا مخالفت؟ جو بھی ہے اس کا جواب ہاں یا نہ میں دینا ہوگا۔  دراصل، الیکشن کمیشن نے اپنے حلف نامہ درخواست کی تائید کی تھی، لیکن سماعت کے دوران، انہوں نے کہا کہ صرف مقننہ (پارلیمنٹ) ہی اس معاملے میں فیصلہ کر سکتی ہے۔

درخواست دہندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاستدانوں اور نوکرشاہوں کے خلاف فوجداری مقدمات کی سماعت ایک سال میں مکمل کرنے کے لئے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنی چاہئيں۔ پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی سزا یافتہ لیڈر یا شخص کے الیکشن لڑنے، سیاسی پارٹی بنانے اور پارٹی کا عہدیدار بننے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے، الیکشن لڑنے کے لئے کم از کم تعلیمی قابلیت اور زیادہ سے زیادہ عمر کی حد مقرر کی جائے اور الیکشن کمیشن، لاء کمیشن اور جسٹس وینكٹچليا کمیشن کی سفارشات کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز