ہم جنس پرستی جرم ہے یا نہیں ؟ دفعہ 377 پر سپریم کورٹ میں سماعت آج

سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ ہم جنس پرستی ( ہومو سیکسولٹی) کو جرم ٹھہرانے والی تعزیرات ہند ( آئی پی سی ) کی دفعہ 377 پر سماعت کرنے والی ہے۔

Jul 10, 2018 09:09 AM IST | Updated on: Jul 10, 2018 09:40 AM IST

سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ ہم جنس پرستی ( ہومو سیکسولٹی) کو جرم ٹھہرانے والی تعزیرات ہند ( آئی پی سی ) کی دفعہ 377 پر سماعت کرنے والی ہے۔ سپریم کورٹ نے سال 2013 میں دلی ہائی کورٹ کے 2009 کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے دو بالغوں کے درمیان آپسی رضامندی سے بنائے گئے رلیشن کو جرم کے زمرہ میں ڈال دیا تھا۔

سپریم کورٹ آج یعنی منگل کو ہم جنس پرستی کو جرم ماننے والی آئی پی سی کی دفعہ  ۔377 کو لیکر دائر ہوئی عرضیوں کی سماعت کرنے جا رہا ہے۔ پانچ ججوں کی آئینی بینچ میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی ) دیپک مشرا ،جسٹس روہنگٹن آر نریمن ،جسٹس اے ایم کھانولکر ،جسٹس ڈیوائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا شامل ہیں۔

ہم جنس پرستی جرم ہے یا نہیں ؟ دفعہ 377 پر سپریم کورٹ میں سماعت آج

علامتی تصویر

واضح ہو کہ ہندوستان میں تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

بتا دیں کہ دفعہ ۔377 کو انگریزوں نے 1862 میں نافذ کیا تھا ۔اس قانون کے تحت غیر فطری سیکس کو غیر قانونی ٹھہرایا گیا ہے۔ اگر کوئی خاتون۔مرد آپسی رضامندی سے بھی غیر فطری سیکس کرتے ہیں تو اس دفعہ کے تحت 10 سال کی سزا اور جرمانہ کا التزام ہے۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز