سپریم کورٹ کا فتوی پر روک سے متعلق اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم پر اسٹے، مولانا محمود مدنی نے کیا خیر مقدم

سپریم کورٹ نے فتوی اور فرمان جاری کرنے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے پر آج روک لگادی۔

Oct 12, 2018 03:12 PM IST | Updated on: Oct 12, 2018 05:33 PM IST

ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے فتوی پر پابندی سے متعلق اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسٹے کا حکم جاری کیا ہے ۔سپریم کورٹ کی بنچ نے یہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے دیا ہے ۔ واضح رہے کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے گذشتہ 30اگست کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کوئی مذہبی تنظیم، ادارہ، مقامی پنچایت اور عوامی گروپ فتوی یا فرمان جاری نہیں کرے گا۔

معاملے کی سنجیدگی کے مدنظر چار ستمبر کو جمعیۃ علماء ہند نے مذکورہ فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا ، جس کی سماعت آج ہوئی ۔جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے عدالت میں ایڈوکیٹ راجو رام چندرن، ایڈوکیٹ شکیل احمدسید،ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی ، ایڈوکیٹ طیب خاں، ایڈوکیٹ مجیب الدین خاں،ایڈوکیٹ عظمی جمیل، ایڈوکیٹ پرویز دباس پیش ہوئے ۔

سپریم کورٹ کا فتوی پر روک سے متعلق اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم پر اسٹے، مولانا محمود مدنی نے کیا خیر مقدم

سپریم کورٹ

سینئر وکیل راجو رام چندر ن نے عدالت میں استدلال کیا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ دستو ر ہند کی دفعہ 26اور وشوا لوچن مدان کیس بنام حکومت ہند میں بذات خود سپریم کورٹ کے فیصلے کی شدید خلاف ورزی ہے ۔ دستور ہند کی دفعہ 26(بی ) میں ہر ایک کو اپنے مذہبی مسائل میں خود کے انتظام کا حق دیا گیا ہے۔لہذا اسے کوئی بھی عدالت ختم نہیں کرسکتی ۔نیز دستورکی دفعہ 141یہ واضح کرتی ہے کہ کسی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف فیصلے دینے کا حق نہیں ہے ۔ اس بات کی بھی شکایت کی کہ ہائی کورٹ نے لشکر پنچایت کے فرمان کو ’فتوی‘ سمجھنے کی غلطی کی ہے اور اس سلسلے میں صرف ہندی کے ایک اخبار کو بنیاد بنا کر فیصلہ دے دیا گیا۔حالاں کہ اخبار کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ محض پنچایتی فرمان ہے اور اس کا فتوی سے دور دور تک تعلق نہیں ہے ۔

عرضی گزار اورجمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹر ی مولانا محمود مدنی نے اسٹے ملنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کے کونے کونے میں دارالافتاء دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہیں۔وہ صرف سائل کے جواب میں مذہبی رہنمائی کرتے ہیں ۔ یہ بات صاف طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ فتوی کوئی فرمان نہیں ہے ۔انھوں نے عدالت کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوری اسٹے کا حکم جاری کیا ہے ۔ امیدہے کہ عدالت مثبت اور تعمیر فیصلہ سنائے گی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز