سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کے صدر کے عہدے سے انوراگ ٹھاکر کو ہٹایا

Jan 02, 2017 12:08 PM IST | Updated on: Jan 02, 2017 12:29 PM IST

نئی دہلی۔ لوڑھا کمیٹی کی سفارشات کو بی سی سی آئی کی طرف سے لاگو کرنے میں ہو رہی آنا کانی بی سی سی آئی کو بھاری پڑی ہے۔ کورٹ نے سخت فیصلہ لیتے ہوئے بورڈ صدر انوراگ ٹھاکر اور سیکرٹری اجے شرکے کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ کورٹ نے انوراگ کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ شرکے نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی تک کورٹ کی کاپی نہیں ملی ہے۔

وہیں جسٹس لوڑھا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھیل کی جیت ہے۔ اس فیصلے سے دوسرے کھیلوں کی تنظیموں کو بھی سبق ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی 3 سفارشات بورڈ کو بھیجی تھیں، لیکن انہیں نہیں مانا گیا۔

سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کے صدر کے عہدے سے انوراگ ٹھاکر کو ہٹایا

سپریم کورٹ میں ڈیڑھ سال سے چل رہے اس معاملے کی آج اہم سماعت ہوئی۔ پچھلی سماعت میں عدالت نے اپنا حکم محفوظ رکھ لیا تھا اور اپنے تیور بھی صاف کر دیے تھے۔ بتا دیں کہ پچھلی سماعت میں چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا تھا کہ بی سی سی آئی سربراہ انوراگ ٹھاکر پر عدالت کی توہین کا کیس چلایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے انوراگ ٹھاکر جیل بھی جا سکتے ہیں۔

کورٹ نے دی تھی انوراگ کو وارننگ

پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جھوٹی گواہی کے لئے بورڈ صدر کو سزا کیوں نہ دی جائے؟ ان پر کورٹ کی توہین کا کیس چلایا جا سکتا ہے۔ اگر غیر مشروط معافی نہ مانگی تو انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ انوراگ پر الزام ہے کہ انہوں نے عدالت سے جھوٹ بولا اور اصلاحات کے عمل میں رکاوٹ پہنچانے کی کوشش کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز