حاجی علی درگاہ میں واقع کنارہ مسجد کو لے کر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کی ترمیم ، ریاستی حکومت کو دیا یہ حکم

Jul 14, 2017 02:20 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 02:22 PM IST

نئی دہلی: ممبئی کی حاجی علی درگاہ کے ارد گرد تجاوزات ہٹانے کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے فوری طور پر درگاہ ٹرسٹ کو راحت دیتے ہوئے اپنے سابقہ فیصلہ میں ترمیم کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ٹرسٹ کی درخواست پر سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتہ میں یہ فیصلہ کرے کہ کنارا مسجد کو مستقل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر فیصلہ خلاف بھی جاتا ہے تو کوئی بھی فریق مسجد کی کچھ حصے کے انہدام کی مخالفت نہیں کرے گا۔

خیال رہے کہ حاجی علی درگاہ ٹرسٹ نے سپریم کورٹ سے مسجد کو ہٹانے سے متعلق حکم میں ترمیم کرنے کی فریاد کی تھی۔ ٹرسٹ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے کہا تھا کہ مہاراشٹر حکومت کے سامنے تجاوز ات ہٹانے کے معاملہ میں کنارا مسجد شامل نہیں تھی، کیونکہ وہ سرکاری زمین پر نہیں ہے۔ کنارا مسجد کو ریگولر کرنے کا مسئلہ بھی ریاستی حکومت کے پاس زیر غور ہے ، اس لئے مسجد کو انہدام کے دائرے سے باہر رکھا جائے اور کمیٹی کو معاملہ کو چار ہفتے کے اندر اندر نپٹارہ کرنے کی ہدایت دی جائے۔

حاجی علی درگاہ میں واقع کنارہ مسجد کو لے کر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کی ترمیم ، ریاستی حکومت کو دیا یہ حکم

چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور دی وائی چندر چوڑ پر مشتمل بینچ نے سبھی فریقوں کی بات کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے کہا کہ اگر ریاستی حکومت کا فیصلہ کنارا مسجدکو مستقل کرنے کے خلاف جاتا ہے تو کوئی بھی شخص مسجد کے اس حصے کے انہدام کی مخالفت نہیں کرے گا جو تجاوزات کے اندر آتا ہے۔ قبل ازیں بینچ نے سبھی فریق کو مسجد کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز