نوٹ بندی معاملہ: مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا کو سپریم کورٹ کا نوٹس

Mar 06, 2017 03:50 PM IST | Updated on: Mar 06, 2017 03:50 PM IST

نئی دہلی۔  سپریم کورٹ نے ملک کے عوام سے کئے گئے وعدوں کے مطابق 31 مارچ 2017 تک 500 اور 1000 روپے کے نوٹ جمع کرنے کی اجازت نہ دینے کےسلسلے میں مرکزی حکومت اور ریزرو بینک سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت عظمی نے آج مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت اور ریزرو بینک کو نوٹس جاری کرکے 10 مارچ تک جوابی حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دی۔ کیس کی سماعت 10 مارچ کو ہوگی۔ مفاد عامہ کی عرضیوں میں کہا گیا ہے کہ پہلے وزیر اعظم اور آر بی آئی نے اعلان کیا تھا کہ جو لوگ کسی بھی وجہ سے پرانے نوٹ جمع نہیں کر پائے ہیں وہ 31 مارچ تک ریزرو بینک میں جمع کرا سکتے ہیں، لیکن بعد میں یہ اس حد کو 30 دسمبر 2016 تک کر دیا گیا۔

غور طلب ہے کہ نوٹ جمع کرنے کے لئے 31 مارچ 2017 تک کی یہ چھوٹ غیر مقیم ہندوستانی کو ہی دی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے پہلے اس طرح کا اعلان کیا تھا اس لئے سپریم کورٹ حکومت کو یہ حکم جاری کرے کہ پرانے نوٹ جمع کرانے کی حد 31 مارچ تک کی جائے۔ غور طلب ہے کہ مودی حکومت نے بلیک منی، جعلی نوٹ اور دہشت گردانہ فنڈنگ اور نکسلیوں کو کی جانے والی فنڈنگ ​​سے نمٹنے کے لئے آٹھ نومبر2016 کو 500 اور 1000 کے پرانے نوٹوں پر پابندی لگا دی تھی۔

نوٹ بندی معاملہ: مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا کو سپریم کورٹ کا نوٹس

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز