بی سی سی آئی کے سابق صدر این شری نواس اور نرنجن شاہ سے سپریم کورٹ نے کیا جواب طلب

Jul 14, 2017 09:08 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 09:08 PM IST

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) میں بہتری کے عمل میں رکاوٹ پہنچانے کے کرکٹ منتظمین کی کمیٹی (سی او اے ) کے الزامات کے پیش نظر بی سی سی آئی کے سابق صدر این شری نواسن اور سابق سیکرٹری نرنجن شاہ سے جواب طلب کئے ہیں ۔ سي اواے نے گزشتہ دنوں عدالت کو سونپی اپنی رپورٹ میں الزام لگایا تھا کہ سری نواسن اور شاہ جیسے بی سی سی آئی کے سابق عہدیدار ذاتی مفادات کی وجہ سے لوڈھا کمیٹی کی بہتری کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹ پہنچا رہے ہیں۔

جسٹس نے بی سی سی آئی سے متعلق معاملات کی سماعت کے دوران سي اواے پوزیشن رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا اور بورڈ کے دونوں سابق عہدیداروں کو نوٹس جاری کرکے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لئے 24 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ سری نواسن گذشتہ سات مئی اور 26 جون کو منعقد خصوصی جنرل اسمبلی میں تمل ناڈو کرکٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے کے طور پر حصہ لیا تھا، جبکہ 70 سال کی عمر سے زیادہ کے عہدیداروں کو عدالت نے نااہل ٹھہرا رکھا ہے۔نرنجن شاہ کی بھی عمر 70 سال سے زیادہ ہو چکی ہے، اس کے باوجود انہوں نے اجلاس میں حصہ لیا تھا۔

بی سی سی آئی کے سابق صدر این شری نواس اور نرنجن شاہ سے سپریم کورٹ نے کیا جواب طلب

سي اواے نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں چوتھی پوزیشن رپورٹ پیش کی تھی جس میں یہ الزام لگائے گئے تھے۔اس سے پہلے سي اواے نے 27 فروری، 17 مارچ اور سات اپریل کو بھی صورت حال رپورٹ جمع کرائی تھی۔ کمیٹی نے نگراں سیکرٹری امیتابھ چودھری کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ چودھری لوڈھا کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔کمیٹی نے سری نواسن کے معتمد انیرودھ چودھری پر خاموش تماشائی بنے رہنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز