چھ ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوئی ، تو گلزا ر احمد وانی کو ضمانت پر رہا کردیا جائے: سپریم کورٹ

اگر مقدمہ کی سماعت اگلے چھ ماہ کے اندر مکمل نہیں کی گئی تو ملزم کو ضمانت پر رہا کردیا جائے گا اور اس تعلق سے استغاثہ کے کوئی بھی دلائل نہیں سنیں جائیں گے

Apr 26, 2017 06:42 PM IST | Updated on: Apr 26, 2017 06:42 PM IST

ممبئی : گذشتہ26 برسوں سے زائد عرصہ سے ملک کی مختلف جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے اپنی جوانی کے ایام گذار چکے ایک مسلم نوجوان جو پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے، کی ضمانت پر رہائی کے تعلق سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے داخل کی گئی ضمانت عرضداشت کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے اتر پردیش حکومت کو زبردست پھٹکار لگائی اور اپنے حکم نامہ میں کہا کہ اگر مقدمہ کی سماعت اگلے چھ ماہ کے اندر مکمل نہیں کی گئی تو ملزم کو ضمانت پر رہا کردیا جائے گا اور اس تعلق سے استغاثہ کے کوئی بھی دلائل نہیں سنیں جائیں گے ۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبار نویسوں کو دی ۔

گلزار اعظمی کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی عدالت عظمی کی دو رکنی بینچ کے جسٹس جگدیش کہر اور جسٹس وائی ڈی چندر چوڑکے سامنے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے دفاعی وکیل ایڈوکیٹ ارشاد حنیف نے کہا کہ ملزم گلزا ر احمد وانی کو31 اگست 2001 کو تحقیقاتی دستہ نے صابرمتی ایکسپریس میں ہوئے بم دھماکہ معاملے میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا لیکن ابھی تک مقدمہ کی سماعت اختتام کو نہیں پہنچی ہے نیز اس سے قبل بھی عدالت نے نچلی عدالت کو چھ ماہ کے اندر مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن ایک سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے معاملے کی سماعت اختتام کو نہیں پہنچ سکی ہے ۔

چھ ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوئی ، تو گلزا ر احمد وانی کو ضمانت پر رہا کردیا جائے: سپریم کورٹ

ایڈوکیٹ ارشاد حنیف نے عدالت بتایا کہ اس معاملے میں گرفتار دو ملزمین محمد علی اور سید مبین کو2001 میں ہی ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں لیکن نچلی عدالت سے لیکر ہائی کورٹ تک نے ملزم کی ضمانت عرضداشت نا منظور کی ہے حالانکہ ملزم پر الزامات اتنے سنگین نہیں ہیں جتنے ضمانت پر رہا شدہ ملزمین پر استغاثہ نے عائد کیئے تھے ۔ دفاعی وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کے خلاف کل 11مقدمات قائم کیئے گئے تھے اس میں سے ابتک وہ 10 میں باعزت بری ہوچکا ہے اورایک مقدمات زیرسماعت ہیں ۔

چیف جسٹس کو ایڈوکیٹ ارشاد حنیف نے بتایا کہ گلزار وانی ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہے لیکن تحقیقاتی دستوں نے اسے جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کرکے اس کی زندگی تباہ و برباد کردی ہے نیز ملزم کا تعلق کشمیر سے لہذا اسے مزید نشانہ بنایا گیا جس پر چیف جسٹس نے ریاستی حکومت کی سرزنش کی نیز اپنے حکنامہ میں کہا کہ31 اکتوبر 2017 تک ملزم کے مقدمہ کی سماعت مکمل کرلی جانی چاہئے نہیں تو یکم نومبر 2017 کو انہیں ضمانت پر رہا کردیا جائے گا ۔

واضح رہے کہ14 ستمبر 2000 کو ریلوے اسٹیشن روز گاؤں (یو پی) پر کھڑی ٹرین نمبر 9166(صابرمتی ایکسپریس) میں بم دھماکہ ہوا تھا جس کی وجہ سے سیکڑوں مسافروں کو شدید چوٹیں آئیں تھیں جس کے بعد پولس نے نا معلوم لوگوں کے خلاف ’’زیرو ایف آئی آر‘‘ نمبر 148/2000درج کی تھی اور تحقیقات شروع کی تھی ۔دوران تفتیش پولس نے چار ملزمین کو گرفتار کیا تھا جس میں گلزار وانی بھی شامل ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز