سپریم کورٹ کے ایک جج کو ملوث کرنے والے گھپلے کی چھان بین کی عرضی عدالت عظمی میں مسترد

Nov 14, 2017 05:23 PM IST | Updated on: Nov 14, 2017 05:23 PM IST

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے آج عدالت عظمی کے سینئر قانون داں کامنی جیسوال کی اس عرضی  کو مسترد کردیا جس میں میڈیکل کالج میں داخلے کے ایک گھپلے میں جس میں سپریم کورٹ کے ایک جج کو بھی ملوث کیا گیا ہے۔ مبینہ رشوت ستانی کے معاملے کی ایس آئی ٹی کے ذریعہ چھان بین کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جسٹس آر کے اگروال کی قیادت والی عدالت عظمی کی ایک سہ رکنی بنچ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ’’عرضی اہانت آمیز ہے لیکن ہم عرضی گذار کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کررہے ہیں۔‘‘

محترمہ جیسوال نے میڈیکل کالج مین داخلے کے ایک گھپلے میں مبینہ رشوت ستانی کے معاملے کی ایس آئی ٹی کے ذریعہ چھان بین کی مانگ کی تھی اس معاملے میں سپریم کورٹ کا ایک جج بھی ملوث بتایا جاتا ہے۔ عدالت عظمی نے محترمہ جیسوال کی مفاد عامہ کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگرچہ ہم قانون سے بالاتر نہیں لیکن عمل ضابطہ کے تحت ہونا چاہئے، عدالتی حکم کے ذریعہ کسی جج کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں کی جا سکتی۔

سپریم کورٹ کے ایک جج کو ملوث کرنے والے گھپلے کی چھان بین کی عرضی عدالت عظمی میں مسترد

سپریم کورٹ آف انڈیا: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا کہ سینئر وکیل نے غیر مصدقہ اور کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر الزامات لگائے ہیں جو ایک عظیم ادارے پر شبہ کا اظہار ہے۔ سہ رکنی بنچ نے مزید کہا کہ عدالت عظمی کی سینئر وکیل نے حقائق کی بنیادی تصدیق کے بغیر چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف غیر ذمہ دارانہ الزامات عائد کئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز