قومی ترانہ کےمعاملہ میں واضح پالیسی بنائے مرکزی حکومت: سپریم کورٹ

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجائے جانے کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کو واضح پالیسی بنانے اور اس کے لئے قومی پرچم ضابطہ میں مناسب ترمیم کرنے کی صلاح دی ہے ۔

Oct 23, 2017 10:04 PM IST | Updated on: Oct 23, 2017 10:04 PM IST

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجائے جانے کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کو واضح پالیسی بنانے اور اس کے لئے قومی پرچم ضابطہ میں مناسب ترمیم کرنے کی صلاح دی ہے ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا،جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے مرکزی حکومت سے آج کہا کہ وہ ملک بھر کے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجائے جانے سے متعلق اسکے عبوری حکم سے متاثر ہوئے بغیر اس بارے میں غور کرے ۔ اس معاملہ کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ ہندستان ایک متنوع ملک ہے اور یکسانیت لانے کے لئے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانا لازمی ہے ۔اس پر بنچ نے حکومت سے سوال کیا کہ آخر کیوں وہ قومی ترانہ کے تعلق سے واضح پالیسی نہیں بنا رہی ہے ۔

عدالت نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت کو اس معاملہ میں غورکرنا چاہئے ۔حکومت کوقومی پرچم کے ضابطہ میں ترمیم کے تعلق سے کسی طرح کے ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہئے ،کیونکہ عدالت اپنے کندھے پر بندوق رکھ کر سرکار کو چلانے نہیں دیگی۔‘‘ بنچ نے معاملہ کی اگلی سماعت کے لئے آئندہ سال 9جنوری کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے مرکز سے کہا کہ وہ تب تک قومی ترانہ بجانے کے ضابطہ کے لئے قومی پرچم ضابطہ میں ترمیم پر غور کرلے ۔

قومی ترانہ کےمعاملہ میں واضح پالیسی بنائے مرکزی حکومت: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف انڈیا: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز۔

عدالت نے شیام نارائن چوکسی کی مفادعامہ کی عرضی پر گزشتہ سال کے اواخر میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے سبھی سنیما گھروں میں فلموں کی نمائش شروع ہونے سے قبل لازمی طور پر قومی ترانہ بجائے جانے کا حکم دیا تھا اور قومی ترانہ بجنے کے دوران ناظرین کو کھڑاہونا لازمی قراردیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز