حق رازداری آرٹیکل 21 کے تحت بنیادی حق، سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ کی ایک نورکنی بنچ نے آج اپنے ایک تاریخی فیصلے میں حق رازداری کو آئین کی دفعہ ۲۱ کے تحت بنیادی حق قرار دے دیا ۔

Aug 24, 2017 11:39 AM IST | Updated on: Aug 24, 2017 03:51 PM IST

نئی دہلی۔  سپریم کورٹ کی ایک نورکنی بنچ نے آج اپنے ایک تاریخی فیصلے میں حق رازداری کو آئین کی دفعہ ۲۱ کے تحت بنیادی حق قرار دے دیا ۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی والی بنچ نے ان سابقہ فیصلوں کو مسترد کردیا جن میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ رازداری کو بنیادی حق تسلیم نہیں بھی کیا جاسکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ حق رازداری کی حیثیت زندگی کے حق جیسی ہے جس کی آرٹیکل 21 کے تحت ضمانت دی گئی ہے۔ اس طرح ایم پی شرما کیس اور کھڑک سنگھ کیس کے فیصلوں کومسترد کردیا گیا۔

یہ معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا کے علاوہ جسٹس جے چیلمیشور ، ایس اے بوبڈے ، آر کے اگروال، روہنٹن ایف نریمان ، ابھیہ منوہر سپرے ، ڈی وائی چندرچورن، سنجے کشن کول اور عبدالنذیر پر مشتمل بنچ کے حوالے اس وقت کیا گیا تھا جب حکومت ہند کے آدھارکارڈ پروجیکٹ کو اس کے بائیومیٹرک رجسٹریشن کے عمل اور بنیادی اور لازمی رعایات سے منسلک کرنے کے اقدام کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا گیا کہ اس سے ملک کے شہریوں کے حق رازداری کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اب ایک چھوٹی بنچ آدھارپروجیکٹ کے خلاف دائر عرضیوں کی الگ سے سماعت کرے گی، آج کا فیصلہ متفقہ فیصلہ تھا جسے عرضی گزاروں کے وکیلوں نے ’’ تاریخی ‘‘ قرار دیا ۔

حق رازداری آرٹیکل 21 کے تحت بنیادی حق، سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ آج کے اس فیصلے سے حق رازداری کے محاذ پر مرکز کو زبردست جھٹکا لگا ہے ۔ عدالت نے دو اگست کو چھ دنوں کی لگاتار سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جسٹس چندر چوڑ نے جسٹس کیہر، جسٹس آر کے اگروال، جسٹس نذیر اور خود اپنی طرف سے فیصلہ لکھا جب کہ جسٹس چلمیشور، جسٹس بوبڈے ، جسٹس سپرے ، جسٹس نریمن اور جسٹس کول نے الگ الگ فیصلہ دیا۔ آدھار معاملے کے ایک فریق پرشانت بھوشن نے بعد میں عدالت کے احاطے میں نامہ نگاروں سے کہا کہ آج کا فیصلہ صرف پرائیوسی کے حق سے متعلق ہے ۔ عدالت نے پرائیویسی کے حق کوآئین کی دفعہ 21 کے تحت حاصل بنیادی حقوق کے زمرہ میں رکھا ہے۔

آئینی بنچ نے 19جولائی سے اس معاملے پر میراتھن سماعت شروع کی تھی اور دو اگست کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا ۔ پین کارڈ کو آدھار کارڈ سے لنک کرنے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف دائر عرضیوں پر سماعت کے دوران عدالت کی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے پرائیویسی کے حق کے معاملے کو نو رکنی آئینی بنچ کے پاس منتقل کردیا تھا۔ اس سے قبل 18جولائی کومعاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ یہ طے کرنا ضروری ہے کہ آئین کے تحت پرائیویسی کے حق میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں۔ اس لئے اس معاملے کو نو رکنی آئینی بنچ کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔  ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز