سپریم کورٹ نے مودی حکومت سے پوچھا: تاج محل کو ختم کرنے کا ارادہ ہے کیا؟

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے آگرہ میں دنیا کے مشہور تاج محل کے ارد گرد 80 کلومیٹر کے دائرے میں موجود 450 درخت کاٹنے کی اجازت کے سلسلے میں دائر درخواست پر مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

Aug 18, 2017 09:05 AM IST | Updated on: Aug 18, 2017 09:11 AM IST

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے آگرہ میں دنیا کے مشہور تاج محل کے ارد گرد 80 کلومیٹر کے دائرے میں موجود 450 درخت کاٹنے کی اجازت کے سلسلے میں دائر درخواست پر مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ جسٹس مدن بی لوكر اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ کیا تاج محل کو ختم کرنے کا ارادہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کے لئے علیحدہ سے درخواست دائر کی جائے۔

کورٹ کے تیور اس وقت تلخ ہوئے جب اس کے سامنے 450 درخت کاٹنے کی اجازت دینے کو لے کر درخواست سماعت کے لئے آئی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ دہلی سے متھرا تک ریل ٹریفک کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے متھرا سے دہلی تک اضافی ریل لائن بچھانے کے منصوبہ پر حکومت کام کر رہی ہے۔ حکومت نے تقریبا 450 درخت نشان زد کئے جنہیں کاٹنے کے بعد ہی ریلوے لائن بچھانے کا کام شروع ہو سکتا ہے۔  بینچ کا کہنا تھا کہ یہ قیمتی ورثہ پہلے ہی دم توڑنے کے دہانے پر ہے۔ درخت کاٹنے کے بعد تو حالات بدتر ہو جائیں گے۔عدالت کیس کی سماعت اگلے ماہ کرے گی۔

سپریم کورٹ نے مودی حکومت سے پوچھا: تاج محل کو ختم کرنے کا ارادہ ہے کیا؟

قابل ذکر ہے کہ تاج محل کی تعمیر مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی بیگم ممتاز محل کی یاد میں کرایا تھا۔ یونیسکو نے اس منفرد آرٹ ورک کو دنیا کی وراثت میں شامل کیا ہے۔ ماہر ماحولیات ایم سی مہتا نے اس کے تحفظ کے بارے میں عدالت میں عرضی دائر کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ گیس اور دیگر آلودہ چیزوں سے تاج محل دم توڑ رہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز