تین طلاق کیس : سپریم کورٹ نے نئی عرضی پر سماعت سے کیا انکار، کہی یہ بات

Aug 13, 2017 04:41 PM IST | Updated on: Aug 13, 2017 04:41 PM IST

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے تین طلاق ، حلالہ اور تعدد ازدواج کو چیلنج دینے والی ایک نئی عرضی پر سماعت سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ مسئلہ پہلے سے ہی زیر غور ہے ۔ تاہم عدالت نے کہا کہ زیر التوا درخواست میں آنے والا فیصلہ اس نئی درخواست پر بھی نافذ ہوگا۔ چیف جسٹس جے ایس كھیهر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کہا کہ '' ہمارا خیال ہے کہ اس درخواست میں اٹھائے گئے مسائل پہلے سے ہی عدالت کے سامنے زیر غور ہیں ، ایسے میں یکساں نوعیت کے معاملہ سے متعلق ایک دوسری عرضی پر سماعت کرنا ضروری نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گروداس مترا کی جانب سے دائر درخواست کا نمٹارہ کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ '' یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ زیر التواء معاملات میں آنے والا فیصلہ موجودہ عرضی پر بھی نافذ ہوگا۔ '' سینئر وکیل سومی چکرورتی نے کہا کہ طلاق کے تینوں طریقے ( طلاق احسن، طلاقحسن اور طلاق بدعت ) مسلم خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ہیں۔

تین طلاق کیس : سپریم کورٹ نے نئی عرضی پر سماعت سے کیا انکار، کہی یہ بات

عرضی میں کہا گیا تھا کہ ' حلالہ اور تعدد ازدواج کے ساتھ ہی ساتھ طلاق کے تینوں طریقے مسلم خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، جو آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 21 کے تحت ان دئے گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے چھ دن کی مسلسل سماعت کے بعد تین طلاق کی پریکٹس کی آئینی قانونی حیثیت کو چیلنج دینے والی درخواستوں پر 18 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ مرکز، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لاء بورڈ اور دیگر سمیت تمام فریقین نے عدالت کے سامنے اس رواج کے حق اور مخالفت میں اپنی دلیلیں رکھی تھیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز