بجٹ ملتوی کرنے کی درخواست پر فوری طور پر سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

Jan 06, 2017 01:42 PM IST | Updated on: Jan 06, 2017 01:42 PM IST

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے پہلے 18-2017کا عام بجٹ پیش نہ کئے جانے سے متعلق عرضی پر فوری طور پر سماعت سے آج انکار کر دیا۔ چیف جسٹس جگدیش سنگھ كهر نے بجٹ کو ملتوی کئے جانے کی دائر درخواست پر کہا ’’ہم اس پر مناسب وقت آنے پر غور کریں گے، لیکن ابھی نہیں۔‘‘

الیکشن کمیشن نے اتر پردیش، پنجاب اور اتراکھنڈ سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا اعلان بدھ کوکیا ہے۔ ان انتخابات کے لئے پولنگ چار فروری سے آٹھ مارچ کے درمیان کرائی جائے گی۔ نریندر مودی حکومت نے عام بجٹ یکم فروری کو پیش کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے عام بجٹ اسمبلی انتخابات کے بعد پیش کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹیوں کا کہنا ہے کہ حکومت ووٹروں کو لبھانے کے لئے بجٹ میں عوام کو متوجہ کرنے والے اعلانات کر سکتی ہے۔ ایڈووکیٹ ایم ایل شرما کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بنچ نے کہا ’’اس معاملے میں سماعت فوری طورپر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جب یہ پٹیشن ہمارے سامنے آئے گی تو ہم قانون کے مطابق غور کریں گے۔

بجٹ ملتوی کرنے کی درخواست پر فوری طور پر سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

جمعرات کو اپوزیشن پارٹیوں نے بجٹ انتخابات کے بعد پیش کئے جانے کی اپنی مانگ کو لے کر الیکشن کمیشن کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا تھا۔ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 31 جنوری سے طلب کیا گیا ہے اور ایک فروری کو بجٹ پیش کیا جانا ہے۔ اپوزیشن اس سلسلے میں صدر پرنب مکھرجی سے بھی گزارش کر چکا ہے۔

راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کل الیکشن کمیشن سے ملنے کے بعد نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ وفد نے بجٹ کو انتخابات کے بعد پیش کئے جانے کی اپیل کی ہے اور کمیشن نے اس پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ترنمول کانگریس کے ایم پی ڈیریک اوبرائن نے بھی کہا تھا کہ بجٹ اسمبلی انتخابات کے بعد پیش کیا جائے۔

ادھر مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بجٹ پیش کرنے کو لے کر اپوزیشن کے اعتراضات پر کہا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن حکومت کے آئینی فرائض کو لے کر سیاست کر رہا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بجٹ پیش کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور یہ کسی ایک ریاست سے منسلک نہیں ہے۔ بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کوئی اچانک نہیں کیاگیا ہے۔ تمام فریقوں کو مطلع کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز