راجیہ سبھا الیکشن میں ہوگا نوٹا کا استعمال، سپریم کورٹ میں کانگریس کی عرضی مسترد

Aug 03, 2017 12:17 PM IST | Updated on: Aug 03, 2017 12:18 PM IST

نئی دہلی۔ گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر سیاست گرم ہے۔ کانگریس نے سپریم کورٹ میں عرضی لگائی تھی کہ انتخابات میں نوٹا کا استعمال نہ کیا جائے جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ نہ ہی الیکشن منسوخ کیا جائے گا اور نہ ہی بیلیٹ پیپر سے نوٹا کا آپشن ہٹایا جائے گا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے نوٹا کا متبادل دینے سے متعلق نوٹیفکیشن کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے۔

بتاتے چلیں کہ کراس ووٹنگ کے خطرے کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے اپنے ممبران اسمبلی کو بنگلور کے ایک ریزارٹ میں رکھا ہے تاکہ بی جے پی ان پر اپنے حق میں ووٹ کرنے کا دباؤ نہ بنا سکے۔ کراس ووٹنگ کا خطرہ جھیل رہی کانگریس کے لئے نوٹا ایک بڑا سر درد ہو سکتا ہے۔ لہذا کانگریس نے اسے ختم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

راجیہ سبھا الیکشن میں ہوگا نوٹا کا استعمال، سپریم کورٹ میں کانگریس کی عرضی مسترد

سپریم کورٹ آف انڈیا: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز۔

بیلٹ پیپر میں نوٹا کے ہونے اور نہ ہونے کو لے کر گجرات میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان تنازعہ تھا۔ بی جے پی منگل تک نوٹا کی حمایت کر رہی تھی لیکن بدھ کو اچانک وہ بیک فٹ پر آگئی۔ بی جے پی نے بدھ کو الیکشن کمیشن سے نوٹا ہٹانے کی اپیل کی تھی۔ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کو میمو دیتے ہوئے دلیل دی تھی کہ راجیہ سبھا انتخابات میں کوئی خفیہ ووٹنگ نہیں ہو گی۔ پارٹی کے وہپ کو دیکھتے ہوئے ممبر اسمبلی پارٹی کی طرف سے مقرر کئے گئے ایجنٹ کو دکھائیں گے کہ انہوں نے کسے ووٹ دیا ہے۔ ایسے میں نوٹا کی ضرورت نہیں ہوگی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز