بابری مسجد انہدام کیس: پڑھیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی 5 بڑی باتیں

Apr 19, 2017 01:05 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 01:05 PM IST

نئی دہلی۔ بابری مسجد انہدام کیس میں سپریم کورٹ نے سینئر بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 10 لوگوں کے خلاف کرمنل کیس چلانے کا حکم دے دیا ہے۔ جج پی سی گھوش اور جج روهٹن نریمن کی مشترکہ بنچ نے اس معاملے میں راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ کو فی الحال راحت دی ہے۔ حالانکہ ان سے بھی اخلاقی بنیاد پر استعفی دے کر کیس میں شامل ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی 5 خاص باتیں

بابری مسجد انہدام کیس: پڑھیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی 5 بڑی باتیں

لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 10 لوگوں پر چلے گا مجرمانہ سازش کا مقدمہ۔ پہلے 13 لوگ تھے جن میں سے 2 کی موت ہو چکی ہے جبکہ کلیان سنگھ کو گورنر ہونے کے ناطے امیونٹی دی گئی ہے۔ سبھی پر کارسیوکوں کے معاملہ کے ساتھ ہی مقدمہ چلایا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ نے کیس کو رائے بریلی سے لکھنؤ کی اسپیشل کورٹ کو منتقل کر دیا ہے۔ خصوصی عدالت کو دو سال میں کیس کی سماعت مکمل کرنی ہوگی۔ معاملہ میں خصوصی عدالت روزانہ سماعت کرے گی۔

کیس کے مقدمے کی سماعت وہیں سے شروع کی جائے گی جہاں سے اس کا اورجن تھا۔ معاملے کی سماعت مکمل ہونے تک اس سے منسلک جج کا ٹرانسفر نہیں کیا جا سکے گا۔ کسی ٹھوس وجہ کے بغیر کیس کی سماعت موخر نہیں کی جائے گی۔

لکھنؤ کی ایڈیشنل سیشن جج کی خصوصی عدالت 4 ہفتے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 120بی ( مجرمانہ سازش) کے تحت الزام طے کرے گی۔

معاملے میں کلیان سنگھ کو گورنر ہونے کی وجہ سے عہدے پر بنے رہنے تک چھوٹ حاصل رہے گی۔ حالانکہ اگر وہ استعفی دے کر اس میں شامل ہونا چاہیں تو عدالت اس کا استقبال کرے گی۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز