سپریم کورٹ کا فیصلہ: طلاق بدعت غیر قانونی، غیر اسلامی

Aug 22, 2017 12:40 PM IST | Updated on: Aug 22, 2017 12:44 PM IST

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے آج اپنے اکثریت کے فیصلے میں طلاق بدعت (مسلسل تین بار طلاق کہنے کی رسم) کو غیر آئینی قرار دیا۔ پانچ رکنی آئینی بنچ کے تین ارکان (جسٹس روهگٹن ایف نریمن، جسٹس ادے امیش للت اور جسٹس کورین جوزف) نے طلاق بدعت کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ روایت غیر اسلامی ہے۔ اگرچہ آئینی بنچ کی صدارت کر رہے چیف جسٹس جے ایس کیہر اور جسٹس اے عبدالنذیر نے طلاق بدعت کو غیر قانونی قرار دینے کے تین دیگر ججوں کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے ۔

جسٹس کیہر نے پہلے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو تین طلاق کے معاملے میں قانون بنانے کا مشورہ دیا اور چھ ماہ تک طلاق بدعت پر روک لگانے کا حکم دیا۔ جسٹس کیہر نے کہا کہ اگر حکومت چھ ماہ میں قانون بنانے میں ناکام رہی تو پھر پابندی جاری رہے گی۔ لیکن جسٹس نریمن، جسٹس للت اور جسٹس جوزف نے بعد میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے طلاق بدعت کو مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ تین ججوں نے اس عمل کو غیر آئینی اور غیر اسلامی قرار دیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ: طلاق بدعت غیر قانونی، غیر اسلامی

جسٹس کیہر نے پہلے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو تین طلاق کے معاملے میں قانون بنانے کا مشورہ دیا اور چھ ماہ تک طلاق بدعت پر روک لگانے کا حکم دیا۔

عدالت عظمی نے اکثریت کے فیصلے میں کہا کہ طلاق بدعت خواتین کی مساوات کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس جوزف نے کہا، "تین طلاق اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے اور اس روایت کو آئین کے آرٹیکل 25 (بنیادی حقوق سے متعلق قانون) کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔لہذا، اسے ختم کرنا چاہئے۔ " جسٹس نریمن نے کہا کہ تین طلاق کو آئین کی کسوٹی پر پرکھا جانا ضروری ہے۔ غور طلب ہے کہ عدالت عظمی نے گزشتہ 18 مئی کو مسلم خواتین سے منسلک تین طلاق کے معاملے پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

آئینی بنچ نے موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران مسلسل سماعت کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سنی تھیں۔ آئینی بنچ میں تمام مذاہب کے فاضل ججوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں ہندو (جسٹس للت)، مسلم (جسٹس نذیر)، سکھ (چیف جسٹس)، عیسائی (جسٹس جوزف) اور پارسی (جسٹس نریمن) شامل تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز