عوامی مقامات پر فون پر بھی ایس سی اور ایس ٹی کے خلاف ذات پر مبنی تبصرہ کرنا قابل سزا جرم : سپریم کورٹ

Nov 19, 2017 03:50 PM IST | Updated on: Nov 19, 2017 03:50 PM IST

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عوامی مقامات پر فون پر درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل زمرہ کے تحت آنے والے لوگوں کے خلاف ذات پر مبنی تبصرہ کرنا جرم ہے اور اس کیلئے زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ عدالت عظمی نے یہ بات ایک ایسے شخص کی عرضی پر سماعت کرکے دوران کہی ، جس پر درج فہرست ذات اور درج قبایل کی ایک خاتون کے خلاف فور پر قابل اعتراض تبصرہ کا الزام ہے ۔ عرضی میں کیس کی سماعت کو ملتوی کرنے اور کیس کو رد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جسٹس جی چیلامیشور اور ایس عبد النظیر کی بینچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے 17 اگست کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار کردیا ۔ ہائی کورٹ نے اترپردیش کے رہنے والے اس شخص کی عرضی خارج کردی تھی ، جس نے اپنے خلاف ایک خاتون کے ذریعہ درج کرائی گئی ایف آئی آر کو رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

عوامی مقامات پر فون پر بھی ایس سی اور ایس ٹی کے خلاف ذات پر مبنی تبصرہ کرنا قابل سزا جرم : سپریم کورٹ

سپریم کورٹ: فوٹو پی ٹی آئی۔

بینچ نے یہ کہتے ہوئے عرضی کو خارج کردیا کہ مذکورہ شخص کو کیس کی سماعت کے دوران یہ ثابت کرنا ہی ہوگا کہ اس نے خاتون سے عوامی مقام پر بات چیت نہیں تھی ۔ ملزم کی طرف سے پیش وکیل وویک بشنوئی نے کہا کہ خاتون اور ان کے موکل نے جب بات کی تب دونوں الگ الگ شہروں میں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ملزم اس وقت عوامی مقام پر تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز