کیجریوال کو جھٹکا ، دہلی حکومت کے فیصلوں پر لیفٹیننٹ گورنر کی رضامندی بھی ضروری : سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے آج کہا کہ دہلی حکومت کو آئین کے دائرے میں کام کرنا چاہئے اور اپنے فیصلوں پرلیفٹیننٹ گورنر کی رضامندی حاصل کرنی چاہئے۔

Nov 02, 2017 09:20 PM IST | Updated on: Nov 02, 2017 09:20 PM IST

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج کہا کہ دہلی حکومت کو آئین کے دائرے میں کام کرنا چاہئے اور اپنے فیصلوں پرلیفٹیننٹ گورنر کی رضامندی حاصل کرنی چاہئے۔ ساتھ ہی، لیفٹیننٹ گورنر کو دہلی حکومت کی فائلوں کو ایک مقررہ میعاد میں نمٹانا چاہئے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ دہلی حکومت کی اس اپیل پر سماعت کر رہی ہے، جس میں لیفٹیننٹ گورنر کو دہلی کا حقیقی انتظامی سربراہ بتانے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ بینچ میں جسٹس مشرا کے علاوہ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ، جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اے ایم کھانویلکراور جسٹس اشوک بھوشن بھی شامل ہیں۔

آئینی بینچ نے کہا کہ دہلی حکومت کے فیصلوں میں لیفٹننٹ گورنر کی رضامندی ضروری ہے۔ مرکز کے زیر انتظام خطہ ہونے کے ناطے دہلی حکومت کے اختیارات واضح کردیئے گئے ہیں اور اس کا دائرہ مقرر کردیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات بھی آئین میں واضح کئے گئے ہيں۔ بینچ نے کہا کہ پولس، زمین، عوامی نظام کے بندوبست پر دہلی حکومت کا کنٹرول نہيں ہے۔

کیجریوال کو جھٹکا ، دہلی حکومت کے فیصلوں پر لیفٹیننٹ گورنر کی رضامندی بھی ضروری : سپریم کورٹ

دہلی حکومت کی طرف سے سینئر وکیل گوپال سبرامنیم نے کہا کہ اس بات سے ہم اتفاق کرتے ہیں کہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہے اور یہ مرکز کے زیرانتظام خطہ ہے۔تاہم، اس معاملے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں سنایا گیاہے اور معاملے کی سماعت پیر کے روز بھی جاری رہے گی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز