سپریم کورٹ کی ہدایت ، بدعنوان ممبران پارلیمنٹ واسمبلی کے خلاف زیر التوا مقدمات جلد ازجلد کئے جائیں حل

Nov 01, 2017 05:47 PM IST | Updated on: Nov 01, 2017 05:47 PM IST

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آج اپنے ایک عبوری حکم میں مرکزی حکومت سے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف زیر التوا مقدمات کو جلد حل کرنے کے لئے اقدامات کرنے کو کہا ہے۔  کورٹ نے کہا ہے کہ اس کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتوں کی طرز پر خصوصی عدالتیں قائم کی جا سکتی ہیں۔جسٹس رنجن گوگوئي کی صدارت والی بنچ جس میں جسٹس نوین سنہا بھی شامل ہیں، نے مرکزی حکومت سے یہ بتانے کو کہا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ  کے خلاف کتنے مقدمات زیر التواء ہیں۔

عدالت نے یہ عبوری حکم بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اشونی اپادھیائے کی جانب سے داخل عرضی پرسماعت کے بعد جاری کیا ہے۔ اس درخواست میں مجرم قراردئے گئے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی پر تاحیات پابندی لگانے کی گزارش کی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مرکز کو بتانا چاہئے کہ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف زیر التوا مقدمات کے فوری حل کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام پر کتنا خرچ آئے گا۔ عدالت نے کہا کہ ایسا فاسٹ ٹریک عدالتوں کی طرز پر کیا جا سکتا ہے۔ مقدمہ کی اگلی سماعت 13 دسمبر کو ہوگی۔

سپریم کورٹ کی ہدایت ، بدعنوان ممبران پارلیمنٹ واسمبلی کے خلاف زیر التوا مقدمات جلد ازجلد کئے جائیں حل

سپریم کورٹ آف انڈیا: فائل فوٹو

الیکشن کمیشن کی وکیل میناکشی اروڑہ نے کہا کہ مجرمانہ معاملات میں قصوروارقراردئے گئے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی پر تاحیات پابندی عائد کی جانی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز