جموں و کشمیر سے متعلق دفعہ 35 اے پر سپریم کورٹ میں سماعت آج ، علیحدگی پسند قیادت نے دی یہ دھمکی

سپیریم کورٹ میں پیر کو دفعہ پینتیس اے کو لے کر دائر کی گئی عرضی پر سماعت کی جائے گی ۔

Oct 30, 2017 09:55 AM IST | Updated on: Oct 30, 2017 09:55 AM IST

نئی دہلی : سپیریم کورٹ میں پیر کو دفعہ پینتیس اے کو لے کر دائر کی گئی عرضی پر سماعت کی جائے گی ۔ جموں و کشمیر کے مقامی لوگوں کو خصوصی اختیارات دینے سے متعلق اس دفعہ کے خلاف عدالت عظمی میں چار عرضیاں اخل کی گئی ہیں ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا ، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بینچ اس عرضیوں پر سماعت کرے گی ۔

ادھر کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی ،میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دفعہ 35 اے (سٹیٹ سبجیکٹ قانون) میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کے خلاف عوام کو احتجاج کے لئے تیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی منصوبہ ہمیں منظور نہیں جس کا مقصد جموں کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرکے اس کی متنازء سیاسی حیثیت متاثر کرنا ہو ۔اتوار کے روز یہاں جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ سوموار کوسپریم کورٹ کی جانب عوامی جذبات کے خلاف کوئی فیصلہ سامنے آیا تو اسی وقت عوامی سطح پر ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی ۔ انہوں نے واضح کیاکہ اس طرح کی کسی بھی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور اس بات کو دہرایا کہ اس طرح کے اقدامات کرکے یہاں فلسطین جیسی صورت حال پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے ۔

جموں و کشمیر سے متعلق دفعہ 35 اے پر سپریم کورٹ میں سماعت آج ، علیحدگی پسند قیادت نے دی یہ دھمکی

سپریم کورٹ آف انڈیا: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز۔

انھوں نے اپنے مشترکہ بیان میں اس بات کا خلاصہ کیا ایک سازش کے تحت مسلم اکثریتی شناخت ختم کرنے کی سازشیں رچائی جارہی ہیں اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر اس طرح کی کسی سازش کو کامیاب ہونے دیا گیا تو بیرون ریاست سے لوگ آکر زمین خریدکر یہاں فلسطین جیسی صورت حال پیدا کریں گے لیکن ریاستی عوام ایسی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ علیحدگی پسند قیادت نے اس سلسلے میں علماء ،دانش وروں ،سول سوسائٹی،وکلاء اور سماج کے دیگر حساس طبقوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کو اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کی حساسیت ،اسے ہٹانے یا ترمیم کرنے کے منصوبوں سے متعلق آگاہ کریں اور ضروری جانکاری دیں اور بین الاقوامی برادری کو آبادیاتی تشخص میں ممکنہ تبدیلیوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر ممکنہ اثرات سے متعلق معلومات فراہم کریں

۔ اپنے بیان میں علیحدگی پسند قیادت نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر قیمت پر اس کی حفاظت کریں گے اور بی جے پی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ رائے شماری کے عمل کو متاثر کرنے کے لئے اس طرح کی سازشیں رچارہے ہیں ۔انھوں نے ریاست کے سبھی طبقوں اور سیاسی جماعتوں کو آزادی پسند قیادت کے موقف کی حمایت کرنے اور مسئلہ کشمیر کے حل میں تعاون دینے کی اپیل دہرائی۔ مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے اپنے بیان میں اس قانون کو ختم کرنے اور ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے ایک گہری سازش قرار دیتے ہوئے ریاست کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کا سٹیٹ سبجیکٹ سے متعلق ان کے واویلا کو ایک دھوکہ قرار دیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز