بابری مسجد انہدام کیس: سپریم کورٹ میں اڈوانی، جوشی اور اوما سمیت 13 پر اہم سماعت

Apr 19, 2017 10:13 AM IST | Updated on: Apr 19, 2017 10:13 AM IST

نئی دہلی۔ انیس سو بانوے بابری مسجد انہدام کیس میں بدھ کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہونی ہے۔ سماعت میں سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا ہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈروں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت 13 افراد پر مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ چلنا چاہئے یا نہیں۔ اس کے علاوہ عدالت یہ بھی طے کرے گی کہ رائے بریلی اور لکھنؤ میں چل رہے دونوں مقدمات کی سماعت ایک ساتھ لکھنؤ کی عدالت میں کی جائے یا نہیں۔ بتا دیں کہ جسٹس پناكی چندر گھوش اور جسٹس روهٹن پھلی نریمن کی بنچ نے چھ اپریل کو اس معاملے میں حکم محفوظ رکھ لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ہم اس معاملے میں انصاف کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا معاملہ جو 17 سالوں سے صرف تکنیکی خرابی کی وجہ سے رکا ہے۔

عدالت عظمی نے اپریل کے پہلے ہفتے میں حکم محفوظ رکھنے سے پہلے اشارہ دیا تھا کہ جہاں تک سازش کے الزامات کا سوال ہے تو آئین کے آرٹیکل 142 سے غیر معمولی اختیارات لی جا سکتی ہیں۔ سپريم کورٹ نے کہا تھا، 'اس کے لئے ہم آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے حقوق کا استعمال کر اڈوانی، جوشی سمیت سب پر مجرمانہ سازش کی دفعہ کے تحت پھر ٹرائل چلانے کا حکم دے سکتے ہیں۔ ساتھ ہی معاملے کو رائے بریلی سے لکھنؤ منتقل کر سکتے ہیں۔ 25 سال سے معاملہ زیر التوا ہے، ہم ڈے ٹو ڈے سماعت کرکے دو سال میں سماعت مکمل کر سکتے ہیں۔ '

بابری مسجد انہدام کیس: سپریم کورٹ میں اڈوانی، جوشی اور اوما سمیت 13 پر اہم سماعت

سی بی آئی نے کی تھی سفارش

بابری مسجد انہدام کیس میں سی بی آئی نے کورٹ سے بتایا تھا کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، یوپی کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 13 رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلنا چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز