یکم فروری کو ہی پیش ہوگا عام بجٹ ، سپریم کورٹ نے درخواست کی مسترد

Jan 23, 2017 06:35 PM IST | Updated on: Jan 23, 2017 06:35 PM IST

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے کچھ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مرکزی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ آگے بڑھائے جانے سے متعلق عرضی آج مسترد کر دی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایسے وقت میں بجٹ لانا جب پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونےجارہے ہیں، مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی ۔

عدالت نے اس دلیل کو ماننے سے انکار کر دیا کہ بجٹ کا لایا جانا کسی بھی طرح سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں مانا جا سکتا۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ اس دعوے کو صحیح ٹھہرانے کی ایسی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ عام بجٹ اسمبلی انتخابات والی ریاستوں میں ووٹروں کو متاثر کر سکتا ہے۔

یکم فروری کو ہی پیش ہوگا عام بجٹ ، سپریم کورٹ نے درخواست کی مسترد

ملک میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے جب عام بجٹ یکم فروری کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ انتخابات کے درمیان میں بجٹ پیش کئے جانے کو مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بتانے والی پٹیشن ایک وکیل ایم ایل شرما کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ مرکز کو یہ حکم دیں کہ بجٹ یکم فروری کے بجائے پہلی اپریل کو پیش کیا جائے کیونکہ بجٹ سے الیکشن والی ریاستوں میں ووٹروں کی سوچ متاثر ہو سکتی ہے۔ درخواست میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ بجٹ میں مرکزی حکومت کو کسی کے دلکش منصوبے کا اعلان کرنے سےاس وقت تک روکا جائے جب تک پانچوں ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ختم نہیں ہو جاتے۔

الیکشن کمیشن نے یوپی، پنجاب، گوا، اتراکھنڈ اور منی پور میں مختلف مراحل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان چار جنوری کو کیا تھا۔ ادھر مرکزی حکومت نے سال 18۔2017 کے لئے یکم فروری کو عام بجٹ پیش کرنے کی تیاری پہلے سے ہی رکھی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز