تین طلاق معاملہ پر سپریم کورٹ نے حکومت سے قانون بنانے کے لئے کہا

Aug 22, 2017 11:21 AM IST | Updated on: Aug 22, 2017 11:39 AM IST

تین طلاق معاملہ میں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی بنچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے چھ ماہ تک کے لئے اس پر روک لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ چھ ماہ میں پارلیمنٹ میں قانون بنا کر تین طلاق کو غیر آئینی قرار دے۔ سپریم کورٹ نے مرکز سے چھ مہینہ میں تین طلاق پر قانون لانے کے لئے کہا ہے۔ جسٹس کھیہر نے کہا کہ اس مسئلے پر تمام جماعتوں کو سیاست سے الگ ہو کر قدم اٹھانا ہو گا۔

جسٹس کھیہر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ طلاق بدعت (ایک وقت میں تین طلاق) سنی کمیونٹی میں ہزاروں سالوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق بدعت آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21 اور 25 کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

تین طلاق معاملہ پر سپریم کورٹ نے حکومت سے قانون بنانے کے لئے کہا

خیال رہے کہ  آئینی بنچ کو یہ معاملہ گزشتہ مئی میں سونپا گیا تھا۔ بنچ کے دیگر ججوں میں جج کورئین جوزف، جج آر ایف نریمن، جج یو یو للت اور جج ایس عبدالنذیر شامل ہیں۔ گرمیوں کی چھٹی کے دوران مسلسل چھ دنوں تک اس معاملہ پر سماعت کرنے کے بعد سپریم کورٹ کی بنچ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اس نے مسلم خواتین کی سات عرضیوں پر سماعت کی، جن میں تین طلاق کے قانونی ہونے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ مرکزی حکومت نے بنچ کے سامنے کہا کہ اگر عدالت تین طلاق کوغیر قانونی اور غیر آئینی مانتی ہے تو وہ مسلم طبقہ میں شادی اور طلاق کے ضابطوں کے لئے قانون بنائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز