طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا انتہائی انتظار والا فیصلہ آج سامنے آئے گا

Aug 21, 2017 11:24 PM IST | Updated on: Aug 21, 2017 11:45 PM IST

نئی دہلی۔ طلاق ثلاثہ کے متنازعہ معاملے پر سپریم کورٹ کا انتہائی انتظار والافیصلہ آج  سامنے آرہا ہےجس میں یہ طے کر دیا جائے گا کہ آیا یہ عمل بنیادی اسلامی شریعت کا حصہ ہے یا نہیں۔ یہ معاملہ اسی سال مئی میں چیف جسٹس جے ایس شیکھر کی سربراہی والی پانچ رکنی آئینی بینچ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ بینچ کے دیگر ججوں میں کرین جوزف، آر ایف نریمان، یو یو للت اور ایس عبد النذیر شامل ہیں۔ تعطیل گرما میں چھ دنوں کی لگاتار سماعت کے بعد بینچ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ بینچ نے سات عرضیوں کی سماعت کی۔ یہ عرضیاں مسلم خواتین نے داخل کی تھیں۔ ان عرضیوں میں طلاق ثلاثہ پر اعتراض کیا گیا تھا جس میں خاوند کھڑے کھڑے بیوی کو ایک جھٹکے میں تین طلاقیں دے دیتا ہے۔

مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامے میں عدالت سے کہا تھا کہ اگر عدالت کے فیصلے میں طلاق ثلاثہ کو غیر معقول اور غیر دستوری پایا جاتا ہے تو حکومت مسلمانوں کے لئے شادی اور طلاق کو باقاعدہ طور پر منضبط بنانے کے لئے قانون سازی کرے گی۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران واضح کر دیا تھا کہ وہ غور و خوض کو تعدد ازدواج کے بجائے اس جانچ تک محدود رکھے گا کہ طلاق ثلاثہ مسلمانوں کے مذہب پر عمل کے لئے آیا قابل اطلاق اساسی حق ہے۔

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا انتہائی انتظار والا فیصلہ آج سامنے آئے گا

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز