ایک گھنٹے کا سفر طے کرکے بڑے شہروں میں 8 سے 10گھنٹے کام کرتی ہیں خواتین

Mar 06, 2017 08:29 AM IST | Updated on: Mar 06, 2017 08:29 AM IST

نئی دہلی۔ بڑے شہروں میں کام کرنے والی 70فیصد خواتین ایک گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد اپنے دفتر پہنچ کر آٹھ سے 10گھنٹے کام کرتی ہیں۔یہ خواتین کم از کم 30کلومیٹرکی دوری طے کرنے کے بعد اپنے دفتر پہنچتی ہیں۔دفتر کی زندگی اور نجی زندگی کے درمیان تال میل بنانے کی کوشش میں بڑے شہروں کی سڑکوں کو ناپتی یہ خواتین اکثر اپنی ہی صحت کےلئے لاپرواہ ہوجاتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ سروے کے مطابق سفر میں اتنا لمبا وقت گنوانے کے باوجود 64فیصد کام کرنے والی خواتین نے اپنے کام کے تئیں مکمل یا عام اطمینان ظاہر کیا۔ رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دفتر کے کام کے دباؤ کے باوجود 84فیصد خواتین ہرروز اپنے دو سے چار گھنٹے گھریلو کاموں میں لگاتی ہیں۔حالانکہ ،زیادہ تر خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں گھر کے کام کاج کرنے میں گھرکے دیگر ممبران سے کوئی مدد نہیں ملتی،جس سے وہ یہ پتہ چلتا ہے کہ اب بھی سماج میں یہی نظریہ ہے کہ گھر سنبھالنے کی ذمہ داری صرف خواتین کی ہے۔قریب 49فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے گھر کے کام کے لئے کسی کو کام پر رکھا ہواہے۔

چیمبرس کے ریسرچ بیورو نے اس سال جنوری فروری کے درمیان دہلی ، ممبئی، بنگلورو، کولکاتہ اور چنئی میں تقریباً 5000کام کرنے والی خواتین اور گھر میں رہنے والی خواتین کاسروے کرکے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ یہ سروے خواتین کی دفتر کی زندگی اور نجی زندگی کے تال میل اور خواتین کی صحت کی معلومات حاصل کرنے کے مقصد سے کیاگیا ہے۔اس کے ساتھ ہی خواتین کو کام پر رکھنے والی تنظیموں اوردفتروں میں ان کے لئے کام کا ساز گار ماحول بنانے کی سمت میں کیا کوشش کی گئی،اس پر بھی توجہ دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر یعنی 63فیصد خواتین اپنی صحت کی وجہ سے چھٹی لیتی ہیں۔ان میں سے 41فیصد نے سردی ، زکام اور بخار کی وجہ سے چھٹی لی۔تقریباً 27فیصد خواتین نے سر میں درد خصوصاً سر درد اور کمر درد کی وجہ سے چھٹی لی۔ خواتین کی آمدنی کا کتنا حصہ ان کی صحت پر خرچ ہوتا ہے جب اس کاتعین کیا گیا تو پتہ چلا کہ 52فیصد خواتین اپنی آمدنی کا 10فیصد سے بھی کم حصہ اپنی صحت پر خرچ کرتی ہیں۔ صرف پانچ فیصد خواتین ایسی تھیں،جو 40فیصد سے زیادہ آمدنی اپنی صحت پر خرچ کرتی ہیں۔ کام کرنے والی خواتین صرف دو فیصدخواتین کا کہنا ہے کہ ان کے دفترمیں کریش کی سہولت ہے۔چیمبرس کاکہنا ہے کہ اس سمت میں کام کرکے روزگارفراہم کرنے والے اپنے یہاں کام کرنے والی خواتین کو تناؤ سے بچا سکتے ہیں۔

ایک گھنٹے کا سفر طے کرکے بڑے شہروں میں 8 سے 10گھنٹے کام کرتی ہیں خواتین

سات فیصد خواتین کے پاس گھر سے ہی دفتر کا کام کرنے کی سہولت ہے۔یہ بھی پایا گیا کہ شادی کےبعد بچے کی پیدائش اور خاندان میں کسی کے بیمار ہونے کی صورت میں زیادہ تر خواتین گھر سے ہی دفتر کاکام کرتی ہیں۔قریب 58فیصد خواتین پرائیویٹ اسپتالوں پر سرکاری یا مقامی کلینک کے بجائے زیادہ بھروسہ کرتی ہیں۔رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلاہے کہ 69فیصد کام کرنے والی خواتین کے پاس بیماری پر تنخواہ سمیت چھٹی لینے کی سہولت ہے۔ قریب 37فیصدی نے کہا ہےکہ انہیں تین سے چھ ماہ تک کی زچگی کی چھٹیاں دی گئی ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کے شعبہ میں 83 فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے دفترمیں خواتین کےلئے الگ سے بیت الخلا کا انتظام ہے۔صرف 27فیصد کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر میں خاتون ڈاکٹر اور ڈسپینسری کی سہولت بھی موجود ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز