عراق میں لاپتہ ہندوستانیوں کی موت کا کوئی ثبوت نہیں: لوک سبھا میں سشما کا بیان

Jul 26, 2017 01:41 PM IST | Updated on: Jul 26, 2017 01:41 PM IST

نئی دہلی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے بدھ کو لوک سبھا میں ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جس میں عراق میں غائب ہندوستانیوں کے مارے جانے کی بات کہی گئی تھی۔ سشما سوراج نے ایوان کو بتایا کہ اس کے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ عراق کے موصل میں غائب 39 ہندوستانیوں کی موت ہو گئی ہے۔ اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے وہاں موجود ہونے کے بھی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ عراق کے وزیر خارجہ نے بھی اس سلسلے میں یہی کہا ہے کہ ان کے پاس لاپتہ ہندوستانیوں کے زندہ یا مردہ ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

سوراج نے کہا، "میرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ موصل میں غائب ہوئے ہندوستانی زندہ ہیں لیکن اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ مارے جا چکے ہیں۔ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ لاپتہ ہندوستانیوں کی موت ہو گئی ہے وہیں چھ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ " وزیر خارجہ نے عراق سے ہندوستان واپس آئے هرجيت کی معلومات کی بنیاد پر عراق میں سرچ آپریشن جاری رکھنے کی اجازت لوک سبھا سے مانگی۔ خود پر لگے ملک کو گمراہ کرنے کے الزام پر صفائی دیتے ہوئے سوراج نے کہا کہ اگر میں کسی کو مردہ قرار دے دوں اور کل کو وہ واپس آکر میرے سامنے کھڑا ہو جائے تو؟ میں یہ نہیں کر سکتی۔ جسے بھی لگتا ہے کہ عراق میں لاپتہ ہوئے ہندوستانی مارے جا چکے ہیں اور جنہیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں وہ آگے آئے اور جا کر ان کے اہل خانہ کو یہ خبر دے دے۔ لیکن اگر کل ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ شخص زندہ ہے تب خاندان کو موت کی خبر دینے والا شخص اس کا ذمہ دار ہو گا۔

عراق میں لاپتہ ہندوستانیوں کی موت کا کوئی ثبوت نہیں: لوک سبھا میں سشما کا بیان

سوراج نے کہا، "ہم نے کبھی نہیں کہا کہ لاپتہ ہندوستانی فی الحال موصل جیل میں ہیں۔ آخری انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق انہیں 2016 کے آغاز میں اس جیل میں رکھا گیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز