مسلم پرسنل لا بورڈ حج کے معاملہ میں نرمی تو پھر تین طلاق معاملہ میں کیوں دکھا رہا ہے سختی ؟ شاہی امام

Oct 16, 2017 12:31 PM IST | Updated on: Oct 16, 2017 12:37 PM IST

نئی دہلی۔ نئی حج پالیسی میں محرم کے بغیر مسلم خواتین کے حج پر جانے کی مرکزی حج کمیٹی کے مشاورتی بورڈ کی تجویز پر ملک بھر میں جاری بحث کے درمیان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اسے شریعت کے مطابق قرار دیا ہے۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری سید محمد ولی رحمانی نے اس مسئلہ پر کہا ہے کہ خواتین کے محرم کے بغیر حج پر جانے کی جو بحث جاری ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس میں یہ واضح ہے کہ جس کا مسلک اجازت دیتا ہے وہ جائے اور جس کا مسلک اجازت نہیں دیتا وہ نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ اس نئی حج پالیسی کی تجویز کو نہ تو توجہ سے پڑھا گیا اور نہ ہی اس پر سنجیدہ غور وفکر کیا گیا۔

مولانا کے اسی بیان پردہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ بالآخر حج کے معاملہ میں نرمی جبکہ تین طلاق کے معاملہ میں سختی کیوں دکھا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب حج کے معاملہ میں دوسرے مسلک کے موقف کو مانا جا رہا ہے تو پھر تین طلاق کے معاملہ میں دوسرے مکاتب فکر کے موقف کو کیوں ماننے سے انکار کر دیا گیا۔

مسلم پرسنل لا بورڈ حج کے معاملہ میں نرمی تو پھر تین طلاق معاملہ میں کیوں دکھا رہا ہے سختی ؟ شاہی امام

دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری : فائل فوٹو۔

روزنامہ انقلاب میں شائع ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، شاہی امام نے کہا کہ یہ ایسا ہی معاملہ ہے جس کا منظر عام پر آنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی موقف تین طلاق معاملہ میں اختیار کیا جاتا تو تو جو فیصلہ سپریم کورٹ سے آیا ہے اس کی شکل کچھ اور ہوتی۔ انقلاب کی رپورٹ کے مطابق، مولانا نے کہا کہ محرم کی شرط احناف اور حنابلہ کے یہاں ہے۔ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک یہ شرط اس شکل میں موجود نہیں ہے۔ لہذا محرم کے بغیر حج کے سفر پر جانا شریعت کے خلاف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالکل یہی صورت حال تین طلاق کے تعلق سے بھی ہے۔ امام بخاری نے کہا کہ اہل حدیث اور شیعہ مسلک میں بھی بیک وقت دی گئی تین طلاقیں تین نہیں ایک ہی مانی جاتی ہیں تو پھر بورڈ جب حج کے معاملہ میں دوسرے مسلک کے موقف کو درست ٹھہرا رہا ہے تو پھر طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں وہ ایک ہی مسلک کے موقف پر کیوں بضد ہے؟ مولانا نے سوال کیا کہ ایک معاملہ میں بورڈ نے ضدی رویہ اختیار کیا اور دوسرے معاملہ میں وہ نرمی دکھا رہا ہے، ایسا کیوں؟

مولانا نے مزید کہا کہ بورڈ نے حج تجویز پر جو موقف اختیار کیا اگر یہی موقف تین طلاق معاملہ میں بھی اختیار کرتا اور سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کے کہا جاتا کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر میں اختلاف رائے ہے اور مسلمانوں کو اس کی آزادی ہے کہ وہ اپنے اپنے مسلک کے مطابق عمل کریں یعنی جن کے مسلک میں تین طلاق واقع ہو جاتی ہے وہ اس کو مانیں اور جن کے مسلک میں تین طلاق واقع نہیں ہوتی وہ اسے نہ مانیں تو ایسی صورت میں سپریم کورٹ کا فیصلہ وہ نہیں آتا جو آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچائی تو یہ ہے کہ اس معاملہ میں بورڈ نے مسلمانوں کو پس وپیش میں رکھا جس کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ شاہی امام نے کہا کہ بورڈ نے ایک طرح سے شریعت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے کہ کسی ایک معاملہ میں کچھ موقف اختیار کیا جاتا ہے اور کسی اور معاملہ میں کچھ اور۔ مولانا بخاری نے یہ الزام بھی لگایا کہ بورڈ کے بعض ذمہ داران حج سے متعلق تجویز کو خلاف شریعت قرار نہ دے کر دراصل حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسلم خواتین: علامتی تصویر مسلم خواتین: علامتی تصویر

واضح رہے کہ حکومت بہار کے سابق چیف سکریٹری افضل امان اللہ کی زیر قیادت تشکیل کردہ ایک کمیٹی نے حال ہی میں اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کو نئی حج پالیسی کی اہم سفارشات پیش کی ہیں جس میں کئی دیگر سفارشات کے علاوہ  45 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو محرم کے بغیر چار خواتین کے گروپ میں سفر حج کرنے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔ محرم کے بغیر خواتین کو حج سفر کی اجازت دینے پر مسلم حلقوں میں بحث و مباحثہ کا ایک طویل سلسلہ چل پڑا ہے۔ کسی نے اس کی مخالفت کی ہے تو کسی نے موافقت۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز