بابری مسجد انہدام معاملے میں سپریم کورٹ کے مشورے کو مسترد نہیں کیا جانا چاہیے: بخاری

Mar 21, 2017 05:12 PM IST | Updated on: Mar 21, 2017 05:12 PM IST

نئی دہلی۔  دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے بابری مسجد انہدام کے معاملے کے حل کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آج کہا کہ اس مشورے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس طرح کی تجاویز آتی رہی ہیں لیکن آج تک اس کا کوئی قابل قبول حل نہیں نکل سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اس بار چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس جے۔ایس۔ کھیہر نے خود یہ مشورہ دیا ہے اس لئے اسے مسترد کرنے کی بجائے اس پر مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ شاہی امام نے مزید کہا کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں جان و مال کا اتلاف ہوا تھا ۔ اس لئے متاثرین کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے بڑے بڑے مسائل حل ہوجاتے ہیں اس لیے بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔ اگر بات چیت کے ذریعے کوئی حل نہیں نکل سکا تو پھر اس مسئلے کا آخری حل عدالت میں ہی ہوگا۔ خیال رہے کہ بابری مسجد انہدام کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس جے۔ ایس، کھیہر نے اس کیس کے دونوں فریقوں کو آپس میں مل بیٹھ کر دوستانہ ماحول میں اس مسئلے کو حل کرنے کا مشورہ دینے کے ساتھ ہی اپنی ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔

بابری مسجد انہدام معاملے میں سپریم کورٹ کے مشورے کو مسترد نہیں کیا جانا چاہیے: بخاری

سید احمد بخاری: فائل فوٹو

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز