شاہی امام احمد بخاری کا مسلم پرسنل لا بورڈ پر رام مندر کی راہ ہموار کرنے کا الزام ، میڈیا کو بھی لیا آڑے ہاتھ

May 17, 2017 06:03 PM IST | Updated on: May 17, 2017 06:03 PM IST

نئی دہلی: شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے طلاق ثلاثہ کے معاملے پر جاری بحث میں سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے اختیار کردہ موقف کو انتہائی افسوسناک اور ناعاقبت اندیشانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس موقف کی وجہ سے عدالت اور حکومت کو شرعی معاملات میں مداخلت کی چھوٹ ملنے کے ساتھ ہی رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کے دور رس اور خطرناک اثرات مرتب ہوں گےکیونکہ اس موقف نے مسلمانوں کے کیس کو کمزور اور عام مسلمانوں کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔

مولانا بخاری نے ’’مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وکیل کپل سبل کی اس مبینہ دلیل پرکہ طلاق ثلاثہ اسی طرح آستھا کا معاملہ ہے جیسے رام کی اجودھیا میں پیدائش ہندؤں کی آستھا سے جڑا معاملہ ہے ،شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے اس موقف نے بابری مسجد کے مقدمے کو کمزور کردیا ہے۔ انہوں نے بورڈ کے دو ممبران پر شک کی سوئی گھومنے کی تمہید کے ساتھ الزام لگا یا کہ ’’ کئی ذمہ دار لوگ مجھے بتا چکے ہیں کہ بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں مسلم پرسنل لاء بورڈکے دو ممبر (جس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک عہدے دار بھی ہیں) سازش میں شامل ہیں‘‘۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس اہم معاملے پر بورڈ کو سخت نوٹس لینا چاہیے۔

شاہی امام احمد بخاری کا مسلم پرسنل لا بورڈ پر رام مندر کی راہ ہموار کرنے کا الزام ، میڈیا کو بھی لیا آڑے ہاتھ

انہوں نے کہاکہ مقدمہ تو لڑا جا رہا مہے تین طلاق کا لیکن مسلم پرسنل لاء بورڈکے وکیل کپل سبل کی طرف سے اجودھیاکے تنازع کو اس میں گھسیٹ لینا یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا مسلمان بابری مسجد سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرلیں اورکیاکپل سبل کے موقف سے یہ طے کرلیا جائے کہ رام مندر کی تعمیر ہر حال میں کرائی جائے گی!! مولانا بخاری نے کہاکہ جب سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کے معاملے پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کو نوٹس جاری کیا تھا تو بورڈ کو بہت ہی مصلحت کے ساتھ جواب داخل کرتے ہوئے بس یہ موقف اختیار کرنا چاہیے تھا کہ یہ معاملہ مسلکی ہے اور اس معاملے میں مختلف مکاتب فکر کی الگ الگ رائے ہے ، کچھ مسلک ایک نشست میں دی گئی تین طلاقوں کو تین مانتے ہیں اور کچھ ایک مانتے ہیں اور سب اپنی رائے رکھنے میں آزاد ہیں اور سب کو اپنے اپنے مسلک پر چلنے کا حق ہے۔ اس میں بورڈ کو کوئی اعترض نہیں ہے لہٰذا یہ معاملہ عدالت سے باہر کی چیز ہے۔

مولانا نے کہا کہ بظاہر تومسلم پرسنل لاء بورڈکے وکیل نے عدالت میں بورڈ کو ہی پھنسا دیا۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ’’ پرسنل لاء بورڈ نے تسلیم کرلیا ہے کہ اس معاملے میں عدالت جو بھی فیصلہ دے گی وہ قابل قبول ہوگا، گویا ہم نے خود شرعی معاملات میں عدلیہ کو مداخلت کرنے کا ایک موقع فراہم کردیا۔

شاہی امام نے نیوز چینلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہاں اسلام اور مسلمانوں کو رسوا کیا جاتا ہے ، علماء اور مسلمانوں کی توہین کی جاتی ہے، طلاق ثلاثہ کے تعلق سے ہونے والے مباحثوں میں مسلمانوں کی شرکت نے بھی اس کیس کو خراب ہی نہیں کیا بلکہ اسلام ،علماء اور مسلمانوں کو رسوا بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم متحد ہوکر حق کیا ہے اور باطل کیاہے، اس کو مسلمانوں کے سامنے رکھیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز