اللہ تعالیٰ امرناتھ یاتریوں کے قاتلوں کو کسی بھی صورت میں معاف نہیں کرے گا : سید علی گیلانی

Jul 12, 2017 08:55 PM IST | Updated on: Jul 12, 2017 08:55 PM IST

سری نگر : بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور تحریک حریت کے چیئرمین سید علی گیلانی نے جنوبی کشمیر میں 7یاتریوں کی ہلاکت اور دیگر مضروب ہونے پر اپنے گہرے رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں کے نام ہمدردی اور تعزیت پُرسی کا خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور ملوث مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خونِ ناحق میں جو بھی لوگ ملوث ہیں، وہ انسانیت کے دُشمن ہیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں کسی بھی صورت میں معاف نہیں کرے گا۔

تحریک حریت چیئرمین مسٹر گیلانی نے بدھ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اسلام بے قصور اور نہتے انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور یہاں جس چیز کو سب سے زیادہ محترم اور مکرم مانا گیا ہے، وہ ایک انسان کی جان ہے۔ اس حملے میں 5خواتین اور دیگر افراد کی موت سے ہمیں ذاتی طور پر سخت صدمہ پہنچا ہے اور میں اس درندگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ مسٹر گیلانی نے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ کشمیر وارد ہونے والے یاتری اور سیاح ہمارے مہمان ہیں اور مہمانوں کی عزت اور حفاظت کرنا نہ صرف ہماری تاریخ کا شاندار باب رہا ہے، بلکہ یہ ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے اور ہماری اخلاقی اقدار کا تقاضا بھی یہی ہے۔

اللہ تعالیٰ امرناتھ یاتریوں کے قاتلوں کو کسی بھی صورت میں معاف نہیں کرے گا : سید علی گیلانی

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی بھارت کے عوام یا ان کے مذہب کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہم ان کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے کے روادار ہیں۔ مسٹر گیلانی نے زخمی یاتریوں کے لیے خون پیش کرنے والے کشمیری نوجوانوں کی شاندار الفاظ میں تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانیت اور اخلاقی کا وہ اعلیٰ معیار ہے، جو کشمیریوں کی فطرت سے تعلق رکھتا ہے اور اس جذبے سے ان کی رگ رگ اور نس نس سرشار ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام فرقہ پرستانہ سوچ سے یکسر بالا تر ہیں اور انہوں نے ہر مشکل وقت میں اس حقیقت کو ثابت کردیا ہے۔ 47ء میں جب پورا برصغیر خاک اور خون میں نہلایا جارہا تھا، کشمیر کی سرزمین ایک الگ ہی تصویر پیش کررہی تھی اور یہاں کا اکثریتی طبقہ اپنے غیر مسلم بھائیوں کو اپنے گھروں میں پناہ دیکر ان کے جان ومال کی حفاظت کررہا تھا۔ یہ وہ تاریخی سچ ہے، جس کی مثال پورے بھارت میں کہیں بھی پیش نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ کوئی ذی ہوش شخص اس سے انکار کرسکتا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز