امرناتھ یاترویوں کو کشمیر میں کوئی خطرہ نہیں ، کشمیری مہذب اور مہمان نواز قوم : سید علی گیلانی

Jun 18, 2017 10:48 PM IST | Updated on: Jun 18, 2017 10:48 PM IST

سری نگر : بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے قومی الیکٹرانک میڈیا کے اس مبینہ منفی پروپیگنڈہ کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے، جس کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یاتریوں کو کشمیریوں کی طرف سے خطرہ ہے اور وہ انہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم ایک مہذب اور مہمان نواز قوم ہے اور اس نے باہر سے آئے مہمانوں کی ہمیشہ عزت افزائی کی ہے۔

مسٹر گیلانی نے اتوار کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری کسی مذہب یا اس کے ماننے والوں کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنے بنیادی اور پیدائشی حقوق کے لیے ایک جائز جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’بھارت نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو واگزار کرانے اور انہیں اپنے مستقبل کے تعین کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرانے کے وعدے کئے ہیں۔ کشمیری ان وعدوں کا ایفاء چاہتے ہیں اور وہ اس کے لیے پچھلے 70سال سے محو جدوجہد ہیں‘۔

امرناتھ یاترویوں کو کشمیر میں کوئی خطرہ نہیں ، کشمیری مہذب اور مہمان نواز قوم  : سید علی گیلانی

مسٹر گیلانی نے الزام لگایا کہ بھارت کے جنونی فرقہ پرست کشمیریوں کی مبنی بر حق جدوجہد کو بدنام کرنے اور غلط رنگ دینے کے لیے ہندو مسلم مناقشے کے طور پیش کرانا چاہتے ہیں اور اس کی آڑ میں وہ ان مکروہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں، جو مسلمانوں اور خاص طور سے کشمیریوں کے خلاف انہوں نے ترتیب دئے ہیں۔ اس کام میں بقول گیلانی بھارت کا الیکٹرانک میڈیا ہر اول دستے کا رول ادا کررہا ہے اور وہ دن کے چوبیسویں گھنٹے کشمیریوں اور ان کی جدوجہد کے خلاف زہر اُگلتا رہتا ہے۔ اب کی بار یاترا کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور یہ ہوا کھڑا کرنے کی انتھک کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیری یاترا کے خلاف ہیں اور وہ یاتریوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

حریت چیئرمین نے یاد دلایا کہ 2008ء، 2010ء اور 2016ء کے عوامی انتفادوں کے دوران جب لاکھوں کشمیری سڑکوں پر اپنے مطالبۂ حقِ خودارادیت کے لیے احتجاج کررہے تھے، یاتریوں اور سیاحوں کی مہمان نوازی میں کسی قسم کا فرق واقع نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ سخت ترین کرفیو کے دوران میں کشمیریوں نے ان کے کھانے پینے کا انتظام کرنے کے لیے لنگر کھولے اور ان کی ہر حیثیت سے خاطر مدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں سے جاری مہمان نوازی کی یہ روایت مستقبل میں بھی جاری رہے گی اور کشمیری کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں اپنے شرافت کے دامن کو داغدار نہیں ہونے دیں گے۔ مسٹر گیلانی نے الزام لگایا کہ بھارت کا الیکٹرانک میڈیا زعفرانی برگیڈ کے ماؤتھ پیس کے طور پر کام کرتا ہے اور وہ اسی کی ہدایت پر عمل کرتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز