حریت لیڈر گیلانی کا اقوام متحدہ سکریٹری جنرل کو کھلا خط ، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مداخلت کا مطالبہ

Sep 17, 2017 09:34 PM IST | Updated on: Sep 17, 2017 09:34 PM IST

سری نگر: بزرگ علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رواں اجلاس کی روشنی میں عالمی سطح کے اس معتبر ادارے کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس کے نام ایک کھلے خط میں مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے میز پر سب سے پرانا حل طلب مسئلہ ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی طرف سے حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ اور مظلوم اقوام کو انصاف فراہم کرنے کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ اس ادارے نے جس طرح کوسوو اور مشرقی تیمور جیسے مسئلوں کو حل کرنے کے لیے مداخلت کرنے کا فریضہ انجام دیاہے، عین اسی طرح مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل نکالنے کے لیے اقوام متحدہ کی مداخت ناگزیر بن گئی ہے۔

حریت لیڈر گیلانی کا اقوام متحدہ سکریٹری جنرل کو کھلا خط ، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مداخلت کا مطالبہ

ریاست جموں کشمیر میں بھارتی افواج اور نیم فوجی دستوں کی طرف سے حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے عام لوگوں کے جلسے جلوسوں اور پُرامن مظاہرین پر قدغنیں عائد کرنے کے لیے فوجی طاقت کا بے تحاشا استعمال کرتے ہوئے مبینہ قتل وغارت، پکڑ دھکڑ، مارپیٹ، عفت مآب خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں اور شخصی آزادی کے علاوہ سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرکے جملہ انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا از خود مشاہدہ کرنے کے لیے مسٹر گیلانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ریاستی عوام کی طرف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ایک نمائندہ وفد کو ریاست جموں کشمیر کا دورہ کرنے کے لیے نامزد کرے اور بھارت کی حکومت پر ایسا کرنے کی اجازت فراہم کرنے کے لیے اپنا دباؤ ڈالیں۔ حریت چیئرمین نے اقوامِ متحدہ کے سامنے اس عوامی مطالبے کو بھی دہرایا کہ اس ادارے کا فرض منصبی ہے کہ وہ بھارت کے افواج کی طرف سے جنگی جرائم کے ارتکاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث وردی پوش مجرمین کو قرارواقعی سزا دلوانے کے لیے یہاں اپنا ایک’وار کرائم ٹربیونل‘ بھیج دینا چاہیے۔

مسٹر گیلانی نے انسانی حقوق کی پامالیوں کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ریاستی عوام کی طرف سے اپنے جائز حقوق کی بازیابی کے لیے پُرامن احتجاجی جلسوں اور جلوسوں پر پیلٹ گنوں کے چھروں کی بارشیں برساکر ہماری نوجوان نسل کو جسمانی طور پر معذور اور آنکھوں کی روشنی سے محروم کیا جارہا ہے۔ تعذیب خانوں میں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

آئے روز سخت ترین کرفیو اور پابندیوں کے نفاذ سے عام لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنادیا گیا ہے۔ جیل خانوں کے دروازے وا کرکے سیاسی قائدین اور عام جوانوں کو غیر قانونی طور پر مقید کیا جارہا ہے اور ان حالات میں ریاست کے اطراف واکناف میں عام لوگوں کی زندگی، عزت اور جائیداد کو قابض افواج اور دیگر سرکاری بندوق برداروں کی طرف سے شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

حریت چیئرمین نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو اس ادارے میں پہلے ہی سے موجود مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تسلیم شدہ قراردادوں کے مطابق حل کئے جانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ دیگر تنازعات کی طرح اس دیرینہ انسانی مسئلے کو بھی جلد از جلد حل ڈھونڈنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے برصغیر کی دو بڑی ایٹمی طاقتوں کے درمیان جاری مخاصمت پورے برصغیر کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے اور جب تک اس مسئلہ کو پُرامن طور حل نہیں کیا جاتا پورے برِصغیر پر خطرات کے بادل منڈلاتے رہیں گے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز