حکمراں بی جے پی اور مسلمانوں کے بیچ رابطے کی خلیج کو کم کرنا وقت کا تقاضا: بی جے پی ترجمان

نئی دہلی۔ سیاسی اور اقتصادی امور کے بی جے پی کے قومی ترجمان سید ظفر اسلام نےملی مسائل کے دیر پا حل اور ملک و ملت کی ترقی میں بہتر ہم آہنگی کے لئے آج یہاں حکمراں پارٹی اور مسلمانوں کے درمیان رابطے کی خلیج کم کرنے پر زور دیا۔

Nov 11, 2017 07:46 PM IST | Updated on: Nov 11, 2017 08:10 PM IST

نئی دہلی۔ سیاسی اور اقتصادی امور کے بی جے پی کے قومی ترجمان سید ظفر اسلام نےملی مسائل کے دیر پا حل اور ملک و ملت کی ترقی میں بہتر ہم آہنگی کے لئے آج یہاں حکمراں پارٹی اور مسلمانوں کے درمیان رابطے کی خلیج کم کرنے پر زور دیا۔ اشاعتی اور نشریاتی میڈیا میں ایک سے زیادہ زبانوں بالخصوص اردو کے صحافیوں سے ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ اس خلیج کو دونوں طرف سے عملاً دور کرنے کی ضرورت ہے اور وہ اس محاذ پر ایک پُل کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

میڈیا کے نمائندوں کے ایک سے زیادہ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ماضی کی شکایات اور مستقبل کے اندیشوں سے الجھنے پر حال کے امکانات سے معاملات کرنا اور تعلیم اور معاشرتی تحفظ کو یقینی بناناوقت کا تقا ضہ ہے۔ بصورت دیگر حکمراں پارٹی کے ساتھ مناسب تال میل کے فقدان کا فائدہ ملت کے وہ رہنما اٹھاتے رہیں گے جنہیں ملی مسائل سے زیادہ پارٹی میں اپنے لئے بہتر سے بہتر عہدوں کی تلاش رہتی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ روئے سخن کس طرف ہے انہوں نے کہا کہ تقریباً ہر سیاسی پارٹی میں ایسے لوگ ملت کے نام پر ذاتی قسمت آزماتے رہتے ہیں۔

حکمراں بی جے پی اور مسلمانوں کے بیچ رابطے کی خلیج کو کم کرنا وقت کا تقاضا: بی جے پی ترجمان

بی جے پی کے قومی ترجمان ڈاکٹر سید ظفر اسلام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں اردو میڈیا کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے۔ فائل فوٹو۔

مسٹر اسلام نے موب لنچنگ، نفرت انگیز بیانات، تاج محل، قبرستان اور شمشان گھاٹ سمیت ایک سے زیادہ تلخیات کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں کے اعتراضات اور سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو مجموعی طور پر بہتر بنانے کے لئے کسی ایک یا دو معاملے پر اٹک کر رہ جانے سے بات نہیں بنے گی۔ جو غلط ہے وہ غلط ہے ۔ درستگی کے لئے توجہ درکار ماحول تیار کرنے پر دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ وفود کی شکل میں متعلقہ وزیروں بشمول وزیر اعظم سے ملیں، جس کی سبیل وہ نکالیں گے اور پھرحسب ترجیح ملت کے مسائل کے حل سے رجوع کیا جائے۔ ان مسائل میں بلا شبہہ تعلیم اور معاشرتی تحفظ کو ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ تصور کے تحت بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز