طلاق ثلاثہ کے مقدمے میں سپریم کورٹ کی حکمت عملی قابل قدر: پروفیسر طاہر محمود

May 11, 2017 09:50 PM IST | Updated on: May 11, 2017 09:50 PM IST

نئی دہلی: معروف ماہر قانون، قومی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ اور لا کمیشن کے سابق رکن پروفیسر طاہرمحمود نے کہا ہے کہ تین طلاق کے مقدمے میں سپریم کورٹ کی حکمت عملی قابل قدر ہے ۔ یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج جب سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے تعدّد ازدواج کو اس قضیے سے الگ کرکے اس پیچیدہ کیس کو طلاق ثلاثہ اور اس سے جڑے ہوئے حلالہ کے ایشو تک محدود کردیا اور اسکے لئے تین بنیادی نکات کی نشاندہی کردی یعنی کیا طلاق ثلاثہ مذہب اسلام میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے! کیا اسکی نوعیت ایک سنسکار کی ہے! اور کیا اس سے آئین کے تحت کسی بنیادی حق کی نفی ہوتی ہے!

پروفیسرمحمود نے کہا کہ عدالت نے ان تین نکات کے ذریعے واضح طورپر اپنے سامنے کی جانے والی بحثوں اور معاملے کے ممکنہ فیصلے کی سمتیں مقرر کر دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے کے تمام متعلقہ مقدمات کو یکجا کیا، ابتدا میں اسے دو کے بجائے تین ججوں کی بنچ کے سامنے رکھا، پھرمعاملے کی آئینی نزاکتو ں کا احساس کرتے ہوئے پانچ نفری آئینی بنچ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا اور عام دنوں کی عدالتی مصروفیت سے بچتے ہوئے جسکے باعث مقدمات عدالت میں برسوں لٹکے رہتے ہیں تعطیلات میں اسکی سماعت کا اہتمام کیا تاکہ ملک بھر میں اس پرچل رہی فضول بحثیں ختم ہو جائیں ۔

طلاق ثلاثہ کے مقدمے میں سپریم کورٹ کی حکمت عملی قابل قدر: پروفیسر طاہر محمود

انھوں نے مزید کہا کہ سماعت سے صرف ایک دن پہلے عین وقت پر اس کیلئے جو بنچ قائم کی گئی اس سے زیادہ معتبر بنچ اس اہم مذہبی اور آئینی پہلو والے معاملے کیلئے نہیں بن سکتی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز