روزجاری کئے جانے والے فتووں سے مسلم طبقے کو پہنچ رہا بڑا نقصان: طاہرہ حسن

Oct 09, 2017 05:58 PM IST | Updated on: Oct 09, 2017 05:58 PM IST

 لکھنؤ۔ روز جاری کئے جانے والے فتووں سے مسلم طبقے کو بڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔ چھوٹے اور بڑے مدرسوں سے دوسو سے پانچ سو روپئےمیں کسی بھی موضوع پر فتویٰ آسانی سے لیا جا سکتا ہے۔ فتویٰ جاری کرنے والے نام نہاد مولویوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کے اس عمل سےنہ صرف مسلم طبقے کا مذاق اڑایا جاتا ہے بلکہ اسلام کی بھی توہین کی جاتی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب فتووں کی خاصی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ فتوے صرف دارالافتا کے منظور شدہ مفتی کے ذریعے ہی دیے جا سکتے تھے ۔ طریقہ تو آج بھی یہی ہے لیکن اب کوئی بھی کسی بھی موضوع پر داڑھی رکھے اور ٹوپی لگائے آدمی سے کچھ بھی لکھوا کراسےفتوے کا نام دے دیتا ہے اورپھررہی سہی کسرمیڈیا کے ذریعے پوری کردی جاتی ہے ۔

روزجاری کئے جانے والے فتووں سے مسلم طبقے کو  پہنچ رہا بڑا نقصان: طاہرہ حسن

طاہرہ حسن ۔ سماجی کارکن

گزشتہ چھ ماہ میں تو جیسے فتووں کی باڑھ سی آگئی ہے۔ حد یہ ہے کہ طلاق سے لیکرخواتین کے بازار جانےاور لپسٹک لگانےجیسے موضوعات پر بھی فتووں کو تماشہ بنا کراسلام اورمسلمانوں کی توہین کی جا رہی ہےاور اس کے لئے مسلم طبقہ بالخصوص علماء کرام پوری طرح ذمہ دار ہیں ۔

حد یہ ہے کہ طلاق سے لیکرخواتین کے بازار جانےاور لپسٹک لگانےجیسے موضوعات پر بھی فتووں کو تماشہ بنا کراسلام اورمسلمانوں کی توہین کی جا رہی ہےاور اس کے لئے مسلم طبقہ بالخصوص علماء کرام پوری طرح ذمہ دار ہیں ۔ حد یہ ہے کہ طلاق سے لیکرخواتین کے بازار جانےاور لپسٹک لگانےجیسے موضوعات پر بھی فتووں کو تماشہ بنا کراسلام اورمسلمانوں کی توہین کی جا رہی ہےاور اس کے لئے مسلم طبقہ بالخصوص علماء کرام پوری طرح ذمہ دار ہیں ۔

سماجی کارکن طاہرہ حسن کا کہنا ہے کہ مختلف مدارس کی  مہروں اور منصبوں کے ساتھ سیکڑوں فتوے جاری کیے جاتے ہیں لیکن ذرا سوچئے کہ ان سیکڑوں فتووں میں سے ایک فتویٰ بھی تو ایسا نہیں جو مسلمانوں کی بدحالی، تعلیمی پسماندگی اورجہالت کو دور کرنے اورترقی کو یقینی بنانے کے لئے دیا گیا ہو۔ سماج ، حکومت اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو دوش دینےاورالزام لگانے والےعلمائے کرام آخراس نظام کو بہتربنانےاورسدھارنےمیں کیوں ناکام ہیں ۔ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز