کرناٹک پر کانگریس نے چلی نئی چال ، گوا- منی پور اور بہار - میگھالیہ میں بی جے پی کو کچھ اس طرح گھیرا

کرناٹک میں منگل سے جاری ہائی وولٹیج ڈراما کے درمیان آخر کار بی جے پی نے حکومت بنالی ہے۔ جمعرات کو بی ایس یدی یورپا نے وزیر اعلی کے عہدہ کا حلف لیا۔

May 17, 2018 09:07 PM IST | Updated on: May 17, 2018 09:07 PM IST

کرناٹک میں منگل سے جاری ہائی وولٹیج ڈراما کے درمیان آخر کار بی جے پی نے حکومت بنالی ہے۔ جمعرات کو بی ایس یدی یورپا نے وزیر اعلی کے عہدہ کا حلف لیا۔ اس کے بعد چار ریاستوں میں اپوزیشن نے مخالفت کی آواز بلند کی ہے۔ گوا ، منی پور ، بہار اور میگھالیہ میں اپوزیشن بی جے پی کو اسی کی چال میں گھیرنے کی کوشش میںمصروف ہوگئی ہے۔

کرناٹک کے طرز پر کانگریس نے گوا اور میگھالیہ میں بی جے پی حکومت کو چیلنج کیا ہے جبکہ بہار میں لالو کی پارٹی راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) نے لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ ریاست میں آر جے ڈی بھی سب سے بڑی پارٹی ہے ، ایسے میں گورنر کو کرناٹک کی طرح آر جے ڈی کو حکومت بنانے کا موقع دینا چاہئے۔

کرناٹک پر کانگریس نے چلی نئی چال ، گوا- منی پور اور بہار - میگھالیہ میں بی جے پی کو کچھ اس طرح گھیرا

گوا میں کانگریس لیڈروں نے گورنر سے ملاقات کیلئے وقت مانگا ہے۔ منی پور میں سابق وزیر اعلی اوکرام ایبوبی سنگھ ، میگھالیہ میں سابق وزیر اعلی مکمل سنگما نے بھی گورنر سے ملنے کیلئے وقت مانگا ہے۔

خیال رہے کہ ان چاروں ریاستوں میں ہوئے انتخابات میں اپوزیشن سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرا تھا ، لیکن بی جے پی نے ممبران اسمبلی کی جوڑ توڑ کرکے یا پھر چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنالی۔ اب کانگریس سمیت اپوزیشن کی دیگر پارٹیاں کرناٹک کا حوالہ دے کر بی جے پی کو اسی کی حکمت عملی میں گھیرنے کی کوشش کررہی ہے۔

کیا ہے کرناٹک فارمولہ ؟

کرناٹک میں 15 مئی کو نتائج کا اعلان کیا گیا تھا ۔ یہاں بی جے پی 104 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی ، لیکن اس کو واضح اکثریت حاصل نہیں تھی ۔ کانگریس کے کھاتہ میں 78 سیٹیں جبکہ جے ڈی ایس 37 سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی ۔ نتائج کے بعد کانگریس اور جے ڈی ایس نے اتحاد کرلیا ۔ کانگریس - جے ڈی ایس اتحاد نے گورنر سے ملاقات کرکے حکومت سازی کا دعوی کیا ۔لیکن گورنر نے واحد سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دی ، جس کے بعد جمعرات کو یدی یورپا نے وزیر اعلی کے عہدہ کا حلف لیا۔

گوا میں کیا ہوا تھا ؟

گوا میں کانگریس 16 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ، لیکن اکثریت سے دور رہی تھی ۔ بی جے پی کے کھاتہ میں  14 سیٹیںگئیں اور دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنالی۔

منی پور میں کیا ہوا تھا ؟

منی پور میں کل 60 سیٹیں ہیں ۔ یعنی اکثریت کیلئے 31 سیٹیں چاہئے تھیں ۔ کانگریس نے 28 اور بی جے پی نے 21 سیٹیں جیتی تھیں ، لیکن بی جے پی نے این پی پی سمیت دیگر پارٹیوں کے ساتھ حکومت بنالی۔

میگھالیہ میں بھی ہوا یہی ہوا

گوا اور منی پور کے بعد میگھالیہ میں بھی ایسا ہوا ۔ یہاں کانگریس نے 20 سیٹیں جیتی تھیں ، وہیں بی جے پی نے صرف دو سیٹیں ۔ اس کے باوجود این پی پی کی قیادت میں چھ پارٹیوں کے ساتھ بی جے پی نے حکومت بنالی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز